ایران اور امریکا کشیدگی میں کسی کیمپ کا حصہ نہیں بنیں گے،پاکستان

182

اسلام آباد(نمائندہ جسارت )وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ایران اور امریکا کشیدگی میں کسی کیمپ کاحصہ نہیں بنیں گے۔ ان کے بقول اگر کسی کیمپ میں گئے تو اس کا اثر پاکستان پر بھی ہوگا۔ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی میں اظہارخیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکانے ویزا پابندی پاکستان پر نہیں وزارت داخلہ جوائنٹ سیکرٹری سمیت3افسران پر لگائی ہے، وزارت خارجہ نے امریکا سے معاملہ اٹھایا ہے، امریکی سفارتخانے نے وضاحت جاری کی،غلط خبریں پھیلائی گئیں، مجموعی طورپر70غیرقانونی پاکستانی امریکاسے واپس آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل میں اہم کرداراداکررہے ہیں، مذاکرات میں ناکامی ہوتی ہے تو ہمیں قربانی کابکرا بنایا جاتا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہپاکستان مخالف قوتیں دھماکے کرارہی ہیں ، جب امن عمل آگے بڑھتاہے تو ایسی قوتیں متحرک ہوتی ہیں، امریکانے پیسے بندکیے تو افغان حکومت نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتے، ایرانی وزیرخارجہ سے 3نشستیں ہوئیں، جس کا مقصد سعودی عرب، امریکا سے متعلق تھا۔شاہ محمودقریشی
نے کہا کہ پاک ایران گیس لائن منصوبہ معاشی طور پر مستحکم پروجیکٹ ہے، ہمیں ضرورت ہے اور ان کے پاس گیس بھی موجود ہے، ایران پر پابندیوں کی وجہ سے کوئی منصوبے کے لیے فنڈ دینے کو تیار نہیں، ہم ایران سے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے بات کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چینی شہریوں کے فراڈ سے متعلق غافل نہیں، چینی سفیر کو دفترخارجہ بلایاگیا ، ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ معاملہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے، چینی قیادت عوامی معاملات پربہت حساس ہے۔ وزیرخارجہ نے بھارتی وزیراعظم کے بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بقول مودی ریڈارنہیں چل رہے تھے ہم نے 2 طیارے مار گرائے، اگر ریڈار چل رہے ہوتے تو نریندرمودی سوچیں کیا ہوتا۔