محمد عامر وائرل انفیکشن کے باوجد ورلڈ کپ کا حصہ بنیں گے،زرائع

85

کراچی (سید وزیر علی قادری)فاسٹ بولر محمد عامر تیسرے ایک روزہ میچ میں بھی پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکیں گے۔قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر کا انفیکشن وائرل شدت اختیار کرتا جارہا ہے، جس پر ٹیم انتظامیہ پریشان ہے۔ ذرائع کے مطابق فاسٹ بولر انفکیشن کی وجہ سے دوسرے ایک روزہ میچ میں بھی شرکت نہیں کرسکے تھے۔ ان کے میڈیکل ٹیسٹ کروائے جارہے ہیں جن کی رپورٹس کا ٹیم اتظامیہ کو انتظار ہے۔ تاہم ان کی ورلڈکپ کے 15 رکنی اسکواڈ میں شمولیت جو کہ انگلینڈ کے خلاف کارکردگی سے مشروط تھی کے باوجود حتمی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے قریبی ذرائع کے مطابق فاسٹ بولر محمد عامر جلد صحتیاب ہوجائیں گے اور میگا ایونٹ میں ان کی شمولیت پر کوئی سوالیہ نشان نہیں لگنا چاہیے۔ جو لوگ جو ان کی ورلڈ کپ اسکواڈ میں شمولیت کے پہلے ہی خلاف تھے ان کی بیماری کو بنیاد بنا کر ٹیم سے دور رکھنا چاہتے ہیں تاہم ان کی ورلڈ کپ میں شمولیت کے حق میں مضبوط ووٹ موجود ہے جس کی وجہ سے ان کا نام حتمی لسٹ میں ضرور شامل ہوگا۔ دریں اثنا ٹیم منیجر طلعت علی ملک کے مطابق محمد عامر4 سے 5دن میں چکن پاکس سے صحت یاب ہوکر پاکستان ٹیم کو جوائن کرلیں گے، عامر کو اس وقت انگلینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز سے بھی باہر نہیں کیا گیا،ساوتھمپٹن میں جب پاکستانی کرکٹرز کو پتہ چلا کہ محمد عامر چکن پاکس میں مبتلا ہیں تو وہ خوف زدہ ہوگئے اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ مرض کسی اور کھلاڑی کو بھی لگ سکتا ہے، اس لئے محمد عامر کو فوری طور پر لندن میں ان کی سسرال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں الگ تھلگ کمرے (قرنطینہ)میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر ان کے مزید ٹیسٹ کررہے ہیں۔چوں کہ چکن پاکس کا مرض ایک سے دوسرے کو لگ سکتا ہے جس کی وجہ سے خدشہ تھا کہ کوئی اور کھلاڑی بھی اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اس لئے محمد عامر کو لندن میں ان کی سسرال منتقل کردیا گیا۔منیجر طلعت علی ملک نے مزید بتایا کہ محمد عامر کی فٹنس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ڈاکٹر ہی اس بارے میں حتمی رائے دے سکتے ہیں۔پی سی بی ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ محمد عامر4 سے 5 دن میں چکن پاکس سے صحت یاب ہوکر پاکستان ٹیم کو جوائن کرلیں گے۔ واضح رہے محمد عامر نے اوول کا میچ کھیلا تھا جو بارش سے نامکمل رہا تھا جبکہ ساوتھمپٹن میچ والے دن پتہ چلا کہ انہیں چکن پاکس نکل آئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں محمد عامرکے میڈیکل ٹیسٹ کروائے جارہے ہیں جن کی رپورٹس کا ٹیم انتظامیہ کو انتظار ہے۔واضح رہے محمد عامر کی ورلڈکپ کے 15 رکنی اسکواڈ میں شمولیت انگلینڈ کے خلاف کارکردگی سے مشروط تھی لیکن ابھی تک انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع نہیں ملا تاہم باوثوق ذرائع اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ وہ ورلڈ کپ کا پاکستانی ٹیم کا حصہ ہونگے ۔دوسری طرف ابھی تک یہ بات بھی سامنے نہیں آئی کہ ان کی بیماری کو ختم ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا۔شائقین کرکٹ بھی فکر مند ہیں کہ جو خبریں آرہی ہیں وہ محمد عامر کے لیے کھیل کے حوالے سے اچھی نہیں ہیں اور خدشہ ہے کہ وہ ورلڈ کپ نہ کھیل سکیں۔