امارات کے قریب تیل بردار سعودی جہازوں پر حملہ

80

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب کے وزیر توانائی انجینئر خالد الفالح نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود کے قریب 2 سعودی جہازوں کے خلاف تخریبی کارروائی کی گئی ہے۔سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے نے وزیر توانائی کے حوالے سے پیر کے روز بتایا کہ اتوار کی صبح 2سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے وقت دونوں جہاز امارات کی تجارتیبحری حدود میں فجیرہ کے قریب سے گزر رہے تھے۔ ایک کمرشل جہاز راس تنورہ بندرگاہ سے سعودی تیل لے کر امریکا جا رہا تھا، جہاں اس تیل کو سعودی پیٹرولیم کمپنی ارامکو کے ایجنٹوں کو فراہم کیا جانا تھا۔انہوں نے بتایا کہ تخریبی حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی متاثرہ جہازوں سے تیل رسنے کی اطلاعات ہیں، تاہم حملے میں جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔خالد الفالح نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد بحری نقل وحرکت اور دنیا بھر میں صارفین کو تیل کی محفوظ سپلائی کو گزند پہنچانا تھا۔انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بین الاقوموامی برادری کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ وہ بحری نقل وحرکت اور تیل لے جانے والے جہازوں کی حفاظت کے لیے اقدام اٹھائے، کیوں کہ اسے نقصان پہنچنے کی صورت میں توانائی مارکیٹ اور اس سے وابستہ اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک 4 تجارتی جہاز تخریب کاری کی کارروائی کا ہدف بنے تھے۔ ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کہ اس واقعے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ساتھ ہی خلیج تعاون کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد زیانی نے تجارتی بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ زیانی نے اسے ایک خطرناک جارحیت قرار دیا، جس سے ان کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل کرنے والوں کی بدنیتی اور شر انگیزی ظاہر ہو رہی ہے۔دوسری جانب ایرانی حکومت نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کے مطابق اس تناظر میں الزام تراشی خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ جب کہ ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ حشمت اللہ نے فجیرہ بندرگاہ پر دھماکوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ خلیجی ممالک میں سیکورٹی کے نقائص کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم فجیرہ بندرگاہ کے حکام نے دھماکوں کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندرگاہ پر معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری ہیں۔ خیال رہے کہ آبنائے ہرمز تیل اور گیس کی ترسیل کی اہم ترین بحری گزر گاہ ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علاحدگی کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔امریکا نے ایران پر حال ہی میں مزید پابندیاں کرتے ہوئے اس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کا استثنا بھی ختم کر دیا تھا، جس کے بعد ایران نے بھی دھمکی دی تھی کہ وہ دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے یورینیم کی افزودگی شروع کر دے گا۔ ساتھ ہی ایرانی خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکا نے جنگی جہازوں سے لیس بحری بیڑا مشرق وسطیٰ بھیجا ہے۔