روحانی نے مذاکرات کی امریکی پیشکش مسترد کردی

58

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ’’بزرگ شیطان ‘‘سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی صدر کی جانب سے وقتی طور پر فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ناممکن ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جھک جانا ایرانی عوام کی ثقافت اور مذہب کو زیب نہیں دیتا، تاہم ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ امریکا نے تہران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، ٹرمپ انتظامیہ اگر پابندیوں کا ختم کرے تو مذاکرات کی راہ نکل سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک مپیو نے برسلز میں جرمن، فرانسیسی اور برطانوی وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش کا شکار ہیں۔ وزیر خارجہ کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ کشیدگی اس قدر بڑھے کہ بات فوجی تصادم تک جا پہنچے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ ایران کے بیانات اور اقدامات کے بعد یورپی شراکت داروں ے ساتھ تبادلہ خیال کے لیے مائیک پومپیو نے برسلز پہنچے اور انہوں نے آخری لمحات میں ماسکو کا دورہ بھی منسوخ کر دیا۔ ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ عراق میں سفر سے گریز کریں۔ چند روز قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بغداد کا اچانک دورہ کیا تھا جس کا مقصد امریکا کی جانب سے عراق حکومت کی حمایت کرنا تھا۔