امریکی اخبار کا مصری اور سعودی قیادت پر سنگین الزام

34

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی خبار وال اسٹریٹ جنرل نے الزام لگایا ہے کہصدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لیبیا میں باغی جنرل خلیفہ حفتر کے ساتھ تعاون پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان السعود اور مصری فوجی صدر عبدالفتاح سیسی نے رضا مند کیا۔ وال اسٹریٹ جنرل میں ایک امریکی اور 2 سعودی حکام کے حوالے سے ٹرمپ، شہزادہ محمد بن سلمان اور سیسی کے درمیان لیبیا کے موضوع پر مذاکراتی رابطوں کے بارے میں خبر شائع کی گئی ہے۔خبر میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور سیسی لیبیا میں بین الاقوامی جائز حیثیت کی حامل قومی مفاہمتی حکومت کو اپنے حریف کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس سلسلے میں حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس سے رجوع کر رہے ہیں۔سیسی نے 9 اپریل کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی اور ان سے جنرل حفتر کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کیا۔ان معاملات سے آگاہ امریکی بااثر شخصیت کا کہنا ہے کہ اسی دن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی اور ان سے جنرل حفتر کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کیا۔خبر کے مطابق سعودی شہزادے نے طرابلس انتظامیہ کے داعش اور القاعدہ کے ساتھ منسلک ہونے کا کہہ کر صدر ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کی۔شہزادہ محمد بن سلمان اور سیسی کے بیانات سے قائل ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے 15 اپریل کو حفتر کے ساتھ ٹیلی فون پر ملاقات کی۔واضح رہے کہ 19 اپریل کو وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں کہا گیاتھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 اپریل 2019 کو جنرل حفتر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی، جس میں دہشت گردی کے خلاف جاری نام نہاد جدوجہد اور لیبیا میں امن و استحکام کی ضرورت جیسے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔ یاد رہے کہ لیبیا کے مشرق میں مسلح ملیشیا کے سربراہ جنرل حفتر نے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے 4 اپریل کو حملے کا حکم دیا، جس کے جواب میں قومی مفاہمتی حکومت نے بھی برکان الغضب آپریشن کا آغاز کر دیا تھا۔