سری لنکا ،ملک بھر میں رات کا کرفیو سوشل میڈیا بند

114
سری لنکا: حملوں اور فسادات کے بعد ملک بھر میں سڑکوں پر فوج تعینات ہے
سری لنکا: حملوں اور فسادات کے بعد ملک بھر میں سڑکوں پر فوج تعینات ہے

کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات کے بعد ملک بھر میں رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا، جب کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگاتے ہوئے عام صارفین کی فیس بک اور واٹس ایپ تک رسائی بھی معطل کر دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک حالیہ پوسٹ کے بعد یہ فسادات کئی شہروں میں شروع ہو گئے تھے۔ کئی شہروں اور قصبوں میں حال ہی ہونے والے مسلم مخالف فسادات اس سال مسیحی تہوار ایسٹر سنڈے کے موقع پر کیے جانے والے انتہائی ہلاکت خیز خود کش بم حملوں کے بعد کیے گئے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ایک مقامی دکاندار کی طرف سے فیس بک پر شائع کیے گئے ایک پیغام کے بعد ملک کے شمال مغربی قصبے چیلاؤ میں مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والے مشتعل مسیحی باشندوں نے مسلمانوں کی دکانوں پر حملے شروع کر دیے۔ اس دوران ملکی سیکورٹی دستوں نے ان مشتعل مسیحی باشندوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی، لیکن اس کے باوجود یہ بدامنی پھیل کر قریبی قصبوں تک پہنچ گئی، جہاں کئی مقامی مسلمان شہریوں کی کاروباری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ چیلاؤ اور اس کے نواحی قصبوں میں اتوار کو پیش آنے والے بدامنی کے واقعات کے بعد وہاں رات کا کرفیو لگا دیا گیا، جس میں پیر کے روز پہلی بار کچھ نرمی کی گئی۔ ان فسادات میں جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ یاد رہے کہ سر لنکا میں 21 اپریل کو 3 گرجا گھروں اور 3 ہوٹلوں پر عسکریت پسندوں کی طرف سے کیے جانے والے سلسلہ وار خود کش بم حملوں میں 258 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دہشت گردی کے بعد سے اب تک اس ملک میں حالات کشیدہ ہیں اور ماضی کے مقابلے میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔