جرمنی میں تُرک مسلمانوں کا اثررسوخ کم کرنے کی کوشش

64
جرمنی: ڈوئزبرگ کی مرکزی مسجد کے احاطے میں رمضان المبارک کی مناسبت سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں
جرمنی: ڈوئزبرگ کی مرکزی مسجد کے احاطے میں رمضان المبارک کی مناسبت سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمن حکام نے میں تُرک مسلمانوں کے اثر رسوخ کو کم کرنے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ برلن حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ مساجد کے تُرکی النسل ائمہ کرام کو انقرہ حکومت کی جا نب سے تنخواہیں اداکی جاتی ہیںاور وہ جرمنی میں مقیم ترک حکومت کے مخالفین کی جاسوسی اور ان بیخ کنی میں مصروف ہیں۔ جرمنی میں 50 لاکھ مسلمان آباد ہیں ، جن میں زیادہ تر تُرک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن ہیں۔ وہاں تقریباً 900 مساجد ترکی کی اسلامی یونین برائے مذہبی ادارہ کے زیر انتظام ہیں۔ یہ ادارہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے تحت کام کرتا ہے۔ برلن حکام کا کہنا ہے کہ تُرک ائمہ دیگر مسلمان تارکین وطن کے مذہبی خیالات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔