موبائل پر ٹیکس ختم کرنے سے سندھ کو 10 ارب کا نقصان ہوا، وزیر اعلیٰ

124
کراچی :وزیر اعلیٰ سندھ ریونیو بورڈ کے افسران کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں
کراچی :وزیر اعلیٰ سندھ ریونیو بورڈ کے افسران کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

کراچی (اسٹاف ر پورٹر) عدالت عظمیٰ کے موبائل سروس کی پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ سروسز پر سندھ سیلز ٹیکس (ایس ایس ٹی) ختم کرنے سے صوبائی حکومت کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس بات کا اظہار چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) خالد محمود نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا۔ چیئرمین ایس آر بی یہ بھی نشاندہی کی کہ رواں مالی کے دوران ابتر معاشی حالات کے باعث کارپوریٹ اور سرکاری تشہیر میں کمی سے صوبائی حکومت کو 3 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ ملک کی مالی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں، لہٰذا ایس آر بی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت مطمئن ہوں کہ ایس آر بی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایس آر بی، محکمہ ایکسائیز و ٹیکسیشن ، بورڈ آف ریونیو، محکمہ توانائی، محکمہ مائینز اینڈ منرل کی وصولیوں کا مجموعی جائزہ لیا۔ تمام محکموں نے تقریباً اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک وہ کامیابی سے حاصل بھی کرلیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 19-2018 کے دوران سخت معاشی حالات میں کاروباری اداروں کو ایک جگہ دینے کے لیے کوئی نیا ٹیکس عاید نہیں کیاگیا، اس حقیقت کے باوجود ایس آر بی آمدن کے مجموعی اہداف کے حصول کو ممکن کرنے جارہا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ایس آر بی خالد محمود نے وزیراعلیٰ سندھ کو 18-2017ء کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے پالیسی ساز فیصلہ کیا ہے کہ نہ ہی نیا ٹیکس نافذ کریں گے اور نہ ہی 19-2018 ء کے لیے موجودہ سخت معاشی حالات میں کاروباری اداروں کو ایک جگہ فراہم کرنا ہے۔ سال 19-2018ء کے لیے 120 بلین روپے کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر چیلنج میں اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی حکومت کی مالی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے ایک محکمہ خزانہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سست روی کا شکار جاری ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات اور محور ریلیز کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ ضروری سروسز پر بجٹ جاری کریں۔