اقرا یونیورسٹی اسائنمنٹ معاملہ: سندھ حکومت و دیگر سے جواب طلب

42

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ میں اقرا یونیورسٹی کے ٹیچر کی جانب سے طلبہ و طالبات کو غیر اخلاقی موضوعات کے اسائنمنٹس دینے کا معاملہ، عدالت نے سندھ حکومت سمیت دیگر سے 28 مئی تک جواب طلب کرلیا، طالب علم ثوبان جاوید کی اخلاق باختہ اسائنمنٹ دینے کے خلاف درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔ سماعت کے موقع پر اقرا یونیورسٹی نے اپنے جواب میں کہا کہ ہم نے متعلقہ ٹیچر کو یونیورسٹی سے نکال دیا جبکہ ٹیچر کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل نے خود استعفا دیا تھا۔ عدالت نے سندھ حکومت سمیت دیگر سے 28 مئی تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ سندھ ہائی کورٹ میں طالب علم ثوبان جاوید کے وکیل عثمان فاروق کا کہنا تھا کہ ٹیچر شمائل موراج طلبہ و طالبات کو غیر اخلاقی اسائنمنٹس کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، اسلامی معاشرے میں غیر اخلاقی موضوعات پر اسائنمنٹس ناقابل قبول ہیں، شمائل موراج کو غیر اخلاقی سرگرمیوں پر برطرف کیا جائے۔ صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اس معاملے پر کارروائی کی ہدایت دی جائے۔ اس طرح کی اسائنمنٹس سے طلبہ اور طالبات میں بے چینی اور عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔