مقبوضہ کشمیر‘3سالہ بچی سے زیادتی‘شہربھر میں مکمل ہڑتال

29

سری نگر( آن لائن ) ضلع بانڈی پورہ کے علاقے سمبل میں 3 سال کی بچی سے زیادتی کے خلاف مقبوضہ کشمیر کی وادی سری نگر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں3 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعے پر شٹر ڈائون ہڑتال جاری ہے۔شہر بھرمیں واقعے کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔احتجاج کی کال حریت رہنمامولانا عباس انصاری نے دی تھی، جس کے بعد شہر بھر میںدکانیں اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے ہیں۔احتجاج کے دوران تعلیمی ادارے بھی بند رہے، کئی علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے باہر نکل کر احتجاج کیا، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ 3 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے ظالموں کے خلاف ایکشن لیا جائے،مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملزم پولیس کی حراست میں ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ ادھر واقعے کے بعد بھارتی فوج کی بڑی تعداد بھی سری نگر میں داخل ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں ضلع کولگام کے علاقوں ڈی ایچ پورہ اورریڈونی میں 2 شہیدنوجوانوںکی نمازجنازہ میں ہزاروں افرادنے شرکت کی ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کولگام اور اس سے ملحقہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد میںعادل بشیر اور جاوید احمد بٹ کی نماز جنازہ کئی مرتبہ ادا کی۔ بھارتی فوج نے دونوں کو ضلع شوپیان کے علاقے ہیندستی پورہ میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی میں شہید کیاتھا۔نوجوانوں کی شہادت پر ضلع کولگام میں مسلسل دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ دریں اثنا بھارتی فورسز نے سری نگر ، اسلام آباد، بڈگام ، بانڈی پورہ ، بارہمولہ اور دیگر علاقوں میںپرامن مظاہرین کے خلاف گولیاں اور پیلٹ فائرکیے اور آنسو گیس کے گولے داغے جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں متعددشدید زخمی ہیں۔جنہیں مختلف اسپتال میں منتقل کیاگیا ۔بارہمولہ کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں بھارتی فورسز کے47اہلکار بھی زخمی ہوگئے ۔حریت چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے حریت پسند رہنماؤں کو بنا کسی قانونی یا اخلاقی جواز کے فرضی اور من گھڑت کیسوں میں پھنسا کر انہیں بدترین قسم کی سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنائے جانے کے لیے اپنے عدالتی نظام کو بھی استعمال میں لایا جارہا ہے، جہاں اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کو دھجیاں اڑانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں ظالم حکمرانوں اور عدلیہ کے انتقام گیرانہ رویے کا سنجیدہ نوٹس لیں۔