رضا باقر نے میری ٹیم کا حصہ بننے کی بھی خواہش ظاہر کی تھی، اسحاق ڈار

51

لاہور(نمائندہ جسارت) ن لیگی رہنماء اورسابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ رضا باقر نے میری ٹیم کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی تھی۔رضا باقر چونکہ آئی ایم ایف ٹیم کا حصہ تھے اس لیے میں نے ملکی مفاد میں ان کو عہدہ دینے سے معذرت کرلی لیکن اب ان کو مانیٹری پالیسی کے بڑے ادارے اسٹیٹ بینک کا گورنر لگا دیا گیا ہے اور حفیظ شیخ کو مالی پالیسی پر بٹھا دیا گیاہے۔انہوں نے ایک پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ 2017ء میں پوری دنیا پاکستان کی معاشی ترقی کی تعریف کررہی تھی۔ ہم 5.8فیصد کی بلند ترین شرح نمو تک گئے۔ 40سال کے کم ترین افراط زر تھا،ہم نے پھر ریونیو کو دگنا کیا، دنیا کے 22کریڈیبل اداروں نے اس معاشی ترقی کو تسلیم کیا۔یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پاکستان اگلے چند سالوں میں جی ٹوینٹی کے ممالک میں شامل ہونے جا رہا ہے۔لیکن بدقسمتی ہے کہ معیشت کو مس ہینڈل کیا گیا۔ ان کی کوئی تیاری نہیں تھی نہ ہی کومنصوبہ بندی اور ویژ ن تھا بلکہ صرف انہوں نے چار سال کنٹینر پر تقریریں کیں۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ٹیم کچھ کرے گی۔ جب پیپلزپارٹی نے 2013ء میں حکومت چھوڑی تھی توحفیظ شیخ کی بدولت پاکستان مائیکرواکنامک عدم استحکام کے فیز میں تھا۔اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ موجودہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے میری ٹیم کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی تھی۔یہ خواہش انہوں نے اس وقت ظاہر کی تھی جب ہم آئی ایم ایف پروگرام میں تھے۔ رضا باقر اچھے ہوں گے وہ پاکستانی ہیں، لیکن میں نے اس وقت ملکی مفاد کو مدنظررکھتے ہوئے ان سے معذرت کرلی تھی کہ وہ آئی ایم ایف کی ٹیم میں کام کرتے ہیں ، اگر میں ان کو وزارت خزانہ میں کوئی کردار دیتا ہوں تو یہ مناسب نہ ہوگا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہر حکومت پچھلی حکومت کے قرضے چکاتی ہے۔ ہمارے دور کے قرضے اتار کریہ کوئی احسان نہیں کریں گے۔یہ موج مستی ، تماشے اور میلے کرنے نہیں آئے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے معیشت پر بولنے پر ٹی وی پر بین کردیا گیا ہے، عمران خان بھی تین سال مفرور رہے لیکن ہم نے توان کو بین نہیں کیا تھا۔