بھارت کو پاکستانی کھجور کی 80 فیصدایکسپورٹ بند ہونے سے ایکسپورٹرز کو کروڑوں کا نقصان

59

کراچی (اسٹاف رپورٹر)بھارت کی جانب سے پاکستانی اشیاء پر200فیصد ڈیوٹی عائد کیے جانے کے بعد بھارت کو پاکستانی کھجور کی80فیصد ایکسپورٹ بند ہونے سے ملکی کھجور ایکسپورٹرز کو کروڑوں روپے کے نقصان پہنچ گیا ۔فاقی وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان نے پاکستانی کھجور کی ملک میںکھپت بڑھانے اور بیرون ممالک سے پاکستان میں درآمد کی جانے والی کھجور پر ڈیوٹی بڑھانے کے بجائے پاکستانی کھجور کے ایکسپورٹرزکو نئی مارکیٹس تلاش کرنے کا مشورہ دے دیاجبکہ کھجور ایکسپورٹرز نے پاکستانی کھجور کی ایکسپورٹس کے مسائل دور کرنے کیلئے مقامی ہوٹل میں وفاقی سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیراکی سربراہی میں ہونے والا اجلاس ناکام قررار دے دیا۔پاکستان سے بھارت کو کھجور کی ایکسپورٹ بند ہونے سے اسکا متبادل تلاش کرنے میں حکومتی ناکامی کے بعد لاکھوں ٹن پاکستانی کھجور ضائع ہونے کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔ پاکستان ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ کمپنی کے تحت کھجور کی پیداوار اور ایکسپورٹ بڑھانے کے سلسلے میں مقامی ہوٹل میںاجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی سیکریٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا، سیکریٹری ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان محمدصالح فاروقی،سی ای او PHDEC محمد اشرف,ایف پی سی سی آئی کی سابق نائب صدر اورخیرپور چیمبر آف کامرس کی بانی صد رمحترمہ شبنم ظفر،خیرپور چیمبر کے صدرنصیراحمدآرائیں،کھجور کے معروف ایکسپورٹرزبشیر احمدآرائیں،کلیم اللہ عباسی، خیرپور، سکھر اور دیگر شہروں سے آئے ہوئے ایکسپورٹر، کسٹم حکام اورگروورزکی بڑی تعداد شریک تھے۔اجلاس کا مقصد کھجورکی پیداوار اورایکسپورٹ بڑھانے پرغورکرنا تھا لیکن یہ اجلاس صرف دکھاوا ہی ثابت ہوا اور وزارت تجارت کے سرکاری افسران نے کھجور کے ایکسپورٹرز کی کوئی مدد کرنے کے بجائے اور بیرون ممالک سے پاکستان میں وافرمقدار میں درآمد کی جانے والی کھجور کی روک تھام کے لیے ڈیوٹی بڑھانے کے بجائے پاکستانی کھجور کے ایکسپورٹرز کو نئی مارکیٹیں تلاش کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔ اجلاس میں وزارت تجارت کی دعوت پر اجلاس میں شریک ایف پی سی سی آئی کی سابق نائب صدر اورخیرپور چیمبر آف کامرس کی بانی صدر شبنم ظفرنے کہا کہ پاکستان ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ کمپنی کا اجلاس نشستن، گفتن، برخاستن ثابت ہوا ،ہمیں کسی نے دلاسا بھی نہ دیا کہ پاکستانی کھجورایکسپورٹرز کی بقاء کیلئے وہ کوئی کام کریںگے ،اس اجلاس سے کوئی نتیجہ نہ نکل سکا بلکہ یہ ایک نمائشی شو تھا۔حیرت ہے کہ اجلاس میں بیوروکریسی کوئی نتیجہ نکالنے کے بجائے کھجور کی تجارت کیلئے نئی راہیں تلاش کرنے پر زور دیتی رہی اگر ان کیلئے یہ سب اتنا ہی آسان ہوتا تو ہم ایکسپورٹرز خود ہی کیوں مارے مارے پھر رہے ہوتے،اجلاس منعقد کرنے والوں کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ ہم کن ممالک میںکھجور ایکسپورٹ کرتے ہیں،بھارت میں ہماری کھجور ایکسپورٹ ہوئی اوریہ مال دوپہر ساڑھے12بجے جاتا ہے اور شام کو 5بجے بھارت پاکستانی مال پر 200فیصد ڈیوٹی کا نفاذکرتا ہے اور الٹا ہم پر6فیصد ٹیکس بھی ڈال دیا گیا ،بھارت نے ہمارا مال واپس بھی نہیں کیا اوریہ مال ابھی تک بھارت میں ہے،ہمیں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے لیکن ہماری حکومت نے ہماراکوئی ساتھ نہیں دیا ۔انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کیلئے ہونے والے اجلاس میں ہمیں صرف لالی پاپ دیا گیا اور ہم سے کہا گیا کہ ترکی،ڈنمارک اور دیگر ممالک کو چھوارا ایکسپورٹ کریں لیکن جب ان ممالک میں چھوارا استعمال ہی نہیں ہوتا تو وہاں ایکسپورٹ کا کیا فائدہ ہے،وزیراعظم عمران خان اس اہم مسئلے کی جانب خصوصی توجہ دیں کیونکہ وہ ملکی معیشت مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں اور ہم انکی مدد کررہے ہیں لیکن انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون لوگ ہیں جو انہیں کامیاب دیکھنا نہیں چاہتے،وزیراعظم عمران خان کو بھارت سے 200فیصد ڈیوٹی ختم کرانے کیلئے بھارتی حکومت سے بات کرنی چاہیئے اور پاکستان میں درآمد ہونے والی کھجور پر ڈیوٹی بڑھائی جائے،بھارت کوکھجور کی ایکسپورٹ کیلئے دوسرے بارڈرزکا استعمال بھی کیا جائے۔شبنم ظفر نے کہا کہ پاکستان 80فیصد کھجور بھارت ایکسپورٹ کرتا ہے اور بھارت کو ایکسپورٹ بند ہونے سے کھجور کے ایکسپورٹرز اور گروورز بے حد پریشان ہیں۔بیرون ممالک سے کھجور کے ہزاروں کنٹینرز درآمد کئے جاتے ہیں اگرانہیں بند کیا جائے تو مسائل50فیصد کم ہوجائیں گے۔