ماتلی، سیاسی چپقلش نے تعمیراتی منصوبوں کا ڈھانچہ بگاڑ کر رکھ دیا

33

ماتلی(نمائندہ جسارت) ضلع بدین کے تعلقہ ماتلی میں بلدیاتی الیکشن 2016ء کے دوران پی پی کے سیاسی بڑوں کے درمیان پیدا ہونے والی باہمی چپقلش کا خمیازہ پیپلز پارٹی اور ماتلی کے شہری آج بھی بھگت رہے ہیں۔پی پی کو جو نقصان ہوا وہ تو پی پی کو 23 جولائی 2018ء کے عام الیکشن کے نتائج سے ہو گیا ہوگا کہ 1971ء کے بعد پہلی مرتبہ پی پی کے مخالف امیدواروں کو پی پی کے ٹکٹ یافتہ امیدواروں کے مقابلے میں اتنے زیادہ ووٹ کیسے ملے ووٹ ملے اور 48 سالہ عام الیکشن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تعلقہ ہیڈ کوارٹر کے شہر ماتلی میں پی پی کے امیدواروں کو شہر کے ہر وارڈ سے کم ووٹ ملے کے مقابلے میں اس کے ساتھ اگر یہ کہا جائے کہ پی پی کے سیاسی بڑوں کے مابین فاصلے مزید بڑھے ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں چاہے وہ جماعتی یا غیر جماعتی بنیاد پر ہوں پیپلز پارٹی کے سامنے آجائے گا کہ اس کے ووٹ بینک میں کتنی زیادہ کمی ہو ئی ہے۔ رہی سہی کثر سندھ حکومت کے ماتلی بیوٹی فکیشن پروجیکٹ کے تحت تعمیراتی اسکیموں کو اپنی مرضی سے کرانے کی ان سیاسی بڑوں کی خواہش نے پوری کرکے رکھ دی جس نے اس پروجیکٹ کا ڈھانچہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔اوپر سے میونسپل کمیٹی میں اپنی اپنی پسند اور اشاروں پر چلنے والے چیف میونسپل آفیسر تعینات کرانے کی ضرورت یا ذاتی انا کے رجحان نے اس چپقلش کو اور بڑھا کر رکھ دیا ہے جس کا خمیازہ میونسپل کے غریب ملازمین بھگت رہے ہیں۔چند ملازمین تو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اس مہینے میں بھی سود پر رقم لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔سب سے زیادہ پریشان تو ریٹائرڈ ملازمین ہیں جو اپنی بقایاجات اور پنشن کے لیے سرگرداں ہیں۔ان سیاسی بڑوں نے تو سی ایم او کی ماتلی میں تعیناتی کو ڈھنڈ کا پکھی والی مثال بنا کر رکھ دیا ہے جو میونسپل ماتلی میں اپنے عہدہ کا چارج لیتے ہی اسے چھوڑنے کی تیاریوں میں لگ جاتا ہے۔