جیکب آباد ایڈز کے مزید کیس سامنے آگئے ایک ہی خاندان کے 3 افراد مبتلا

81

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جیکب آباد میں ایڈز کے مزید کیسز سامنے آنے لگے، جیکب آباد میں ایک ہی خاندان کی خاتون اوراس کے دو معصوم بچوں میں ایڈز کی بیماری کا انکشاف۔ شوہر ایڈز کی وبا کے باعث پہلے ہی انتقال کرچکا۔ جیکب آباد میں ایچ آئی وی ایڈز کی بیماری کے مزید کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ایڈز کے کیسز سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت کے حکام میں کھلبلی مچ گئی ہے اور محکمہ صحت کی جانب سے شہر میں اتائی ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے مگرتاحال سندھ حکومت کی جانب سے جیکب آباد میں ایڈز کی بیماری کے ٹیسٹ اور علاج کے لیے کوئی سینٹر قائم نہیں کیا گیا، جیکب آباد کے احمد میاں سومرو گوٹھ کے رہائشی ایک خاندان کی خاتون اور اس کے دو معصوم بچوں کو ایڈز کی بیماری کی تصدیق کردی گئی ہے۔ گوٹھ احمد میاں سومرو کے رہائشی محنت کش اللہ وسایو سومرو نے صحافیوں کو بتایا کہ میرا 28 سالہ بیٹا نور الدین سومرو ایڈز کی بیماری کی وجہ سے کچھ عرصہ قبل انتقال کرگیا تھا جبکہ اس کی بیوہ مسمات پری اور اس کے دو معصوم بچوں بیٹے محمدرمضان اور بیٹی سونی کو ایڈز کی بیماری کی تصدیق ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو کہاں سے بیماری لگی کچھ علم نہیں، اس کے بعد اس کی بیوہ اور بچوں کو ایڈز کو بھی وہی بیماری لگی ہے، جس کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ جیکب آباد میں ایڈز کا علاج نہیں ہوتا، اس لیے بیٹے کی بیوہ اور بچوں کا کوئٹہ سے علاج کروا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے خاندان کا علاج کرایا جائے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل ہی جیکب آباد کی یونین کونسل میرل کے قصبہ محبوب ابڑو میں بھی ایک ہی خاندان کے تین کیس سامنے آئے تھے جن میں 50 سالہ منظور احمد اور شادی شدہ جوڑے 25 سالہ لکمیر ولد منظور ابڑو اور اس کی بیوی 24 سالہ مسمات چھٹن شامل ہیں جبکہ منظور احمد کی بیوی حسینہ 6 ماہ قبل ایڈز کی وجہ سے ہی ہلاک ہوگئی تھی۔ جیکب آباد میں ایڈز کے کیسز تیزی کے ساتھ سامنے آرہے ہیں مگر محکمہ صحت کی جانب سے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے جارہے، ایڈز کے کیسز سامنے آنے کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جیکب آباد میں فی الفور سینٹرز قائم کیے جائیں اور جہاں خطرہ محسوس ہو ان کے ٹیسٹ کیے جائیں۔