میرپور خاص ،وفاق کا اعلان کردہ رمضان پیکج غیر فعال ،اشیاء خور دو نوش نایاب

19

میرپور خاص (نمائندہ جسارت) وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ رمضا ن المبارک پیکیج غیر فعال، یوٹیلیٹی اسٹوروں پر اشیا خورونوش نایاب، یوٹیلیٹی اسٹوروں پر ہو کا عالم ہے، موجودہ حکومت نے وعدوںکے علاوہ کچھ نہیں دیا، شہری۔ جبکہ بازاروں میں تاجر فروٹ، دالیں، گوشت، مشروب، سبزیاں اور دیگر اشیا خورونوش من مانے نرخوں پر فروخت کررہے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران گراں فروشوں پر قابو پانے میں ناکام، روزہ دار مہنگے داموں اشیا خریدنے پر مجبور ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں روزہ داروں کی سہولت کے لیے یوٹیلیٹی اسٹوروں پر سستی اشیا فراہم کرنے کے لیے رمضان پیکیج کا اعلان کیا تھا لیکن ماضی کی طرح یہ بھی صرف اعلان تک محدود رہا، یوٹیلیٹی اسٹوروں پر اشیا خورونوش نایاب ہیں، یوٹیلیٹی اسٹوروں پر غیر معیاری آٹا، شیمپو، سرف، ٹوتھ پیسٹ، ہیئر کلر اور دیگر اشیا تو موجود ہیں لیکن روز مرہ استعمال کی اشیا یوٹیلیٹی اسٹوروں سے غائب ہیں، خریدار یوٹیلیٹی اسٹوروں پر خریداری کے بغیر ہی مایوس ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں اور بازاروں سے مہنگے داموں اشیا خریدنے پر مجبور ہیں۔ رابطہ کرنے پر یوٹیلیٹی اسٹور کے ریجنل منیجر ریاض احمد نے بتایا کہ ہمارے پاس سفید چنا، چنے کی دال اور آٹا موجود ہیں جبکہ چینی سمیت دیگر روز مرہ استعمال کی اشیا کی فراہمی جلد شروع ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں شہریوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں بھی جھوٹ بولنے کا وتیرہ نہیں، وفاقی حکومت نے اس سے قبل بھی عوام کے حالات بدلنے کے وعدے کیے لیکن پیٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس، کھانے پینے کی دیگر اشیا میں ہوشربا اضافہ کر کے عام آدمی سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے، موجودہ حکومت غربت کے بجائے غریب مٹائو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دوسری جانب رمضان المبارک سے قبل ضلعی انتظامیہ، مارکیٹ کمیٹی اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے فوٹو سیشن اجلاسوں میں رمضان المبارک میں روزہ داروں کو سستی اشیا فراہم کرنے عہد کیا تھا اور جب رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ شروع ہوا تو ضلعی افسران اپنے ایئر کنڈیشنڈ دفاتر تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی نے مارکیٹ چوک پر اپنا خالی کرسیوں والا کیمپ قائم کردیا ہے اور روزہ داروں کو سستی اشیا فراہم کرنے کا عہد کرنے والے تاجر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں اور مہنگائی کے ستائے ہوئے تاجروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں۔