دیارِ دل میں دراڑیں

83

شبیر ابن عادل
رمضان شروع ہوتے ہی جہاں لوگ مساجد کا رخ کررہے ہیں، روزوں اور تراویح اور دیگرعبادات کا اہتمام ہے۔ نیکیوں کا موسم بہار ہے اور شیاطین مقید کردیے گئے ہیں وہیں سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں لڑائی جھگڑے اور معمولی باتوں پر تو تو میں میں کے سلسلے جاری ہیں اور باہر ہی نہیں گھروں کے اندر بھی سحر اور افطار میں بیگم اور بچوں پر گرجنا برسنا اور بیگم کا شوہر پر چڑھ دوڑنا بھی نظر آرہا ہے۔ جو ہر رمضان کا حصہ بن گیا ہے۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ شاید اُن صاحب کو روزہ لگ رہا ہے۔ لڑنے جھگڑنے والے اور معمولی باتوں پر مرنے مارنے پر اتر آنے والوں میں اگرچہ روزہ دار بھی ہوتے ہیں، مگر زیادہ تر ایسے لوگ ہوتے ہیں، جن کا روزہ ہی نہیں ہوتا۔ اگر غور کریں تو اسلام نے تو ہمیں ایسی کوئی تعلیم نہیں دی کہ رمضان میں غصہ اور لڑنا جھگڑنا انسانی فطرت کا حصہ ہے یا سلف صالحین میں اس کی کوئی مثال ملتی ہو۔ بلکہ پینے والی حرام اشیاء میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کو غصہ سب سے زیادہ پسند ہے یعنی اللہ کو وہ بندے بہت پسند ہیں، جو اپنے غصے کو پی جاتے ہیں۔
ہم تو ہر معاملے میں رہنمائی کے لیے گوگل (Google) کو سرچ نہیں کرتے، بلکہ اپنے محسن سرور کونین نبی اکرم ؐ کی حیات طیبہ اور سنتِ مطہرہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان ؐ کی سیرت کا جائزہ لینے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکارم اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ سرکار ؐ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد کسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ؐ کے اخلاق کیسے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن حکیم کا مطالعہ نہیں کیا؟ یعنی آپ ؐ کے اخلاق قرآن پاک کا عملی نمونہ تھے۔ آپؐ کی حیات طیبہ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؐ بلند پایہ اخلاق کا نمونہ تھے۔ کئی مواقع پر آپؐ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ اگر وہ کھڑا ہے تو بیٹھ جائے۔ اور قرآن کی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کو ایسے لوگ بہت پسند ہیں، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔
آپ دیکھیے کہ مکی دور میں ہمارے اور پوری انسانیت کے محسن ؐ کو کتنے مصائب سے گزرنا پڑا۔ راہ میں کانٹے، گھر کے باہر غلاظت اور راستہ چلتے کوڑا اور گندگی پھینکی جانی، برا بھلا کہنا یعنی مجنون کہنا اور گالیاں تک بکنا، بیت اللہ میں نماز کے دوران گردن مبارک پر اونٹ کی وزنی اور گندی اوجڑی کا ڈالا جانا۔ حج کے موقع پر جب آپ ؐ مختلف قبیلوں میں تبلیغ کے لیے جاتے تو ابو لہب کا اُن ؐ کے سرمبارک پر خاک ڈالنا اور یہ کہنا کہ (نعوذ باللہ) یہ دیوانے اور مجنون ہیں۔ پھر تین سال معاشی بائیکاٹ کے زمانے میں شعب ابی طالب میں قبیلہ بنو ہاشم کا شدید مصائب برداشت کرنا، پھر طائف کی وادیوں میں ظالموں کا آپؐ سے گستاخانہ سلوک، پتھراؤ، تالیاں پیٹنا اور خون سے آپؐ کی جوتیوں کا بھر جانا اور انتہائی بے عزتی۔ یہی نہیں، مدنی دور میں متعدد بار بدوؤں کا آپؐ کی خدمت میں آکر گستاخانہ سلوک، مکہ کے مشرکین اور یہودیوں کی آپ ؐ کی شان میں متعدد بار گستاخیاں۔
اور اس کے جواب میں پیارے رسول ؐ کا سلوک کتنا مختلف، کتنا حیران کن اور کتنا متاثر کن تھا۔ جب مکہ فتح ہواتو سب کو معاف کردینا، سب کو… ایک لمحہ کے لیے ذرا سوچیں تو صحیح، جس شہر میں کسی کی ولادت ہوئی ہو اور اس شہر کے لوگوں نے اتنا بدترین سلوک کیا ہو اور یہی نہیں بلکہ اس شہر سے ہی ہجرت پر مجبور کردیا ہو۔ پھر جب وہ فرد اس شہر کو فتح کرلے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ کوئی اور فاتح ہوتا تو وہ اُس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا۔ اس کے مردوں کا بلا تخصیص قتل عام کرواتا اور عورتوں کو باندی بنا کر اپنی فوج میں تقسیم کردیتا اور سارا مال لوٹ لیاجاتا۔ اس زمانے کی جنگو ں کا یہی دستور تھا۔ لیکن رسول اللہ ؐ نے سب کو معاف کردیا۔ جس پر اہل مکہ میں تعجب اور حیرت کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اور اس کے نتیجے میں ہو ا کیا؟ ہوا یہ کہ مشرکین کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا۔ یہی بہترین سلوک آپؐ نے طائف کی فتح کے بعد کیا تھا۔
پھر مختصراً وہ واقعہ بھی پیش کروں گا، جب غزوہ احد میں آپؐ کے بہت پیارے چچا سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب، جن سے آپؐ کے دوستانہ مراسم تھے اور ان کی اسلام کے لیے بے پناہ خدمات اور قربانیاں تھیں، شہید کردیے گئے۔ صرف شہید ہی نہیں کیے گئے، بلکہ ان کے جسد مبارک کا مثلہ کیا گیا۔ ان کی میت کی حالت دیکھ کر آپؐ کی آنکھوں سے اشکوں کا سیل رواں جاری ہوگیا۔ رسول اللہ ؐ کتنی ہی بلند پایہ ہستی ہوں، آپ ؐ کے اندر کتنی ہی نورانیت کیوں نہ ہو (اس سے انکار نہیں)، لیکن تھے تو انسان ہی۔ آپؐ نے اس غم واندوہ کی خاص کیفیت میں فرمادیا کہ حمزہ ؓ کے بدلے ستر (۷۰) مشرکوں کو قتل کروں گا۔ اسی وقت وحی نازل ہوئی اور آپؐ کو ایسی جذباتی باتوں سے روکا گیا۔ پھر جب آپؐ مدینہ واپس تشریف لے جارہے تھے تو وہ الفاظ ادا فرمائے، جن کو پڑھ کر آج بھی ہر مومن کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ہیں۔ آپؐ نے روتے ہوئے فرمایا کہ آج حمزہ ؓ کو رونے والا کوئی نہیں۔
اس کے بعد جب سیدنا حمزہ ؓ کے قاتل وحشی سے، جو اس جرم کے بعد اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر فرار ہوتا پھر رہا تھا، کسی نے کہا کہ رسول اللہ ؐ کی خدمت میں جاکر اسلام قبول کرلو، وہ تمہارا قصور معاف کردیں گے۔ چنانچہ وحشی منہ پر کپڑا ڈال کر بارگاہِ رسالت ؐ میں آیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد کپڑا اپنے منہ سے ہٹایا تو سرکار ؐ نے فرمایا کہ کیا تم وحشی ہو؟ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ ہاں۔ آپؐ نے اسے بھی معاف کردیا۔
پھر رسول اللہ ؐ کی اثر انگیز تعلیمات کے نتیجے میں ایسا بہترین معاشرہ وجود میں آیا تھا، جس میں خیر ہی خیر تھی۔ ایک دوسرے کی بھلائی اور ہمدردی۔ لڑائی جھگڑے اور تنازع کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، وہاں تو شہری ایک دوسرے کی خیرخواہی اور مدد میں لگے رہتے تھے۔ یہ صرف مدینہ منورہ کی بات نہیں، بلکہ عہد ِ رسالت ؐ اور اس کے بعد خلفائے راشدین کے زریں عہد میں جتنے علاقے فتح ہوئے، ان سب میں وہی اعلیٰ اخلاق سرایت کرتے چلے گئے، جن کی تعلیم ہادی برحق ؐ نے دی تھی۔ تعلیم ہی نہیں دی تھی، بلکہ اپنے ذاتی عمل سے اس کا نمونہ بھی پیش کردیا تھا۔ خود ہی اس کا نمونہ پیش نہیں فرمایا، بلکہ صحابہ کرام ؓ کی صورت میں دنیا کی ایسی اعلیٰ و ارفع جماعت تیار کردی تھی، جو ان اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھے۔ اس حوالے سے ایک ہی مثال پیش کروں گا، جو بہت سی مثالوں پر بھاری ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ شاید غزوہ احد کا واقعہ ہے، چند صحابہ کرام زخمی پڑے تھے، ان میں سے ایک کو پانی پیش کیا گیا تو اس نے جھپٹ کر خود نہیں پی لیا، بلکہ اپنے دوسرے ساتھی کی جانب اشارہ کیا کہ پہلے انہیں پلاؤ۔ پانی ان کے پاس لے جایا گیا تو انہوں نے قریب پڑے ہوئے اپنے ایک اور ساتھی کی جانب اشارہ کردیا، جب پانی ان کے پاس لے جایا گیا تو ان کی روح پرواز کرچکی تھی۔ جب پانی دوسرے صحابی کے پاس لایا گیا تو وہ بھی داعیٔ اجل کو لبیک کہہ چکے تھے اور پہلے والے صحابی کا بھی وہی حال ہوا۔ یہ ہے ایثار اور یہ ہے محبت اور قربانی۔
ہم اگر اعلیٰ اخلاق کے اتنے بڑے نمونے پیش نہیں کرسکتے تو اتنا تو کرسکتے ہیں کہ سب کو معافی میں رکھیں۔ یعنی کوئی بھی فرد ایسی حرکت کرے کہ ہمارے خون کھولنے لگے تو اسے معا ف کردیں۔ چاہے وہ بیوی ہو، اولاد ہو، بہن بھائی یا دیگر رشتے دار ہوں، پڑوسی ہوں، دوست ہوں، آفس، روزگار یا تعلیمی ادارے کے ساتھی ہوں یا راہ چلتے لوگ۔سڑک پر اگر کسی نے ہماری بائیک یا گاڑی کو سائیڈ مار دی تو اس سے الجھنے یا مارنے پیٹنے کے بجائے سوری کہہ دیں، چاہے غلطی اسی کی ہو۔ بازار میں کوئی ٹکرا کر یا دھکا دے کر گزر جائے تو دل میں اسے معاف کردیں۔ اپنی غضب ناک زبان پر تالا ڈال دیں اور بولنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچیں کہ کہیں کسی کے دیارِ دل میں دراڑیں نہ پڑجائیں۔