رمضان المبارک … آٹھواں سبق (صلہ رحمی)

74

عتیق الرحمن خلیل
’’اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو‘‘۔ (النساء: 1)
خدا اور رحم کا واسطہ ہمیشہ سے باہمی تعاون و ہمدردی کا محرک رہا ہے جس کو بھی کسی مشکل یا خطرے سے سابقہ پیش آتا ہے وہ اس میں دوسروں سے خدا اور رحم کا واسطہ دے کر اپیل کرتا ہے اور یہ اپیل چونکہ فطرت پر مبنی ہے اس وجہ سے اکثر حالات میں یہ موثر بھی ہوتی ہے لیکن خدا اور رحم کے نام پر حق مانگنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح ان واسطوں پر حق مانگنا حق ہے اسی طرح ان کا حق ادا کرنا بھی فرض ہے۔ جو شخص خدا اور رحم کے نام پر لینے کے لیے تو چوکس ہے لیکن دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے وہ خدا سے دھوکا بازی اور رحم سے بے وفائی کا مجرم ہے اور اس جرم کا ارتکاب وہی کرسکتا ہے جس کا دل تقویٰ کی روح سے خالی ہو۔
سیدنا انسؓ کی روایت میں ارشاد نبوی ہے کہ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے اس کے رزق اور عمر میں اضافہ ہو تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے (یعنی رشتہ داری توڑے نہیں بلکہ جوڑ کر رکھے)۔ (بخاری ومسلم)
سیدنا عبداللہ بن عَمروؓ کی روایت میں ارشاد نبوی ہے کہ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف بدلہ چکائے (یعنی احسان کے بدلہ احسان کرے) بلکہ صلہ رحمی تو وہ ہے کہ اگر اس سے رشتہ ناتا توڑا جائے تو تب بھی اس سے رشتہ جوڑے رکھے۔ (بخاری)
صلہ رحمی سے متعلق حیرت انگیز واقعہ: کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے شہر قصیم کی شرعی عدالت نے اپنی تاریخ میں ایسا عجیب و غریب مقدمہ دیکھا جو قصیم بلکہ پوری مملکت سعودی عرب میں نہ ہی پہلے کبھی دیکھا یا سنا گیا تھا۔
حیزان الفہیدی الحربی یہ بریدہ سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گائوں (اسیاح) کا رہنے والا ہے۔ قصیم کی شرعی عدالت میں فیصلہ جیسے ہی اس کے خلاف گیا تو اس نے خود تو رو رو کر اپنی داڑھی کو آنسوئوں سے تر بتر کیا ہے، مگر اس کو دیکھنے والے لوگ بھی رو پڑے۔یہ قصہ تصوراتی نہیں بلکہ سچا اور حقیقت پر مبنی واقعہ ہے۔ حیزان اپنی ماں کا بڑا بیٹا ہے۔ اکیلا ہونے کی وجہ سے سارا وقت اپنی ماں کی خدمت اور نگہداشت پر صرف کرتا تھا۔ حیزان کی ماں ایک بوڑھی اور لاچار عورت جس کی کل ملکیت پیتل کی ایک انگوٹھی جسے بیچا جائے تو کوئی سو روپے بھی دینے پر بھی آمادہ نہ ہو۔سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا کہ ایک دن دوسرے شہر سے حیزان کے چھوٹے بھائی نے آکر مطالبہ کر ڈالا کہ میں ماں کو ساتھ لے جانا چاہتا ہوں تاکہ وہ شہر میں میرے خاندان کے ساتھ رہ سکے۔ حیزان کو اپنے چھوٹے بھائی کا اس طرح آکر ماں کو شہر لے جانے کا ارادہ بالکل پسند نہ آیا۔ اس نے اپنے بھائی کو سختی سے منع کیا کہ وہ ایسا نہیں کرنے دے گا۔
دونوں بھائیوں کے درمیان تکرار زیادہ بڑھی تو انہوں نے معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا، مگر معاملہ عدالت میں جا کر بھی جوں کا توں ہی رہا، دونوں بھائی اپنے موقف سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے اور عدالت پیشیوں پر پیشیاں دیتی رہی تاکہ وہ دونوں کس حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ مگر یہ سب کچھ بے سود رہا۔مقدمے کی طوالت سے تنگ آ کر قاضی نے آئندہ پیشی پر دونوں کو اپنی ماں کو ساتھ لے کر آنے کا کہا تاکہ وہ ان کی ماں سے ہی رائے لے سکے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا زیادہ پسند کریں گی؟ اگلی پیشی پر یہ دونوں بھائی اپنی ماں کو ساتھ لے کر آئے، ان کی ماں کیا تھی محض ہڈیوں کا ایک ڈھانچا، بڑھیا کا وزن بیس کلو بھی نہیں بنتا تھا۔قاضی نے بڑھیا سے پوچھا کہ کیا وہ جانتی ہے کہ اس کے دونوں بیٹوں کے درمیان اس کی خدمت اور نگہداشت کے لیے تنازع چل رہا ہے؟ دونوں چاہتے ہیں کہ وہ اسے اپنے پاس رکھیں! ایسی صورتحال میں وہ کس کے پاس جا کر رہنا زیادہ پسند کرے گی؟
بڑھیا نے کہا، ہاں میں جانتی ہوں، مگر میرے لیے کسی ایک کے ساتھ جا کر رہنے کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر حیزان میری ایک آنکھ کی مانند ہے، تو اس کا چھوٹا بھائی میری دوسری آنکھ ہے۔ قاضی صاحب نے معاملے کو ختم کرنے کی خاطر حیزان کے چھوٹے بھائی کی مادی اور مالی حالت کو نظر میں رکھتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ اس کے حق میں کر دیا۔کیونکہ حیزان کی عمر خود بھی نوے برس تھی اور وہ اس عمر میں خود نگہداشت کا محتاج تھا۔ اس لیے عدالت نے کہا کہ اب تک تم یہ سعادت حاصل کرتے رہے، اب ماں کی خدمت کا حق چھوٹے بھائی کو دے دو۔ کیس کا فیصلہ سن کر حیزان اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ ماں کی خدمت سے محروم ہونے پر زارو قطار رونے لگا۔
ایک روزہ ایک نیکی
صلہ رحمی: صلہ رحمی کے معنی: رشتہ داروں کا حق ادا کرنا، احسان کرنا، ان کو خیر پہنچانا اور شر کو دور کرنا۔
قرآن میں کئی مقامات پر صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسے ’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتائو رکھو) بے شک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (النساء: 36)