پنجاب میں اساتذہ کوبیروزگار کرنے کا منصوبہ

188

پنجاب میں 55 سال کی عمر سے زاید اساتذہ کو ریٹائر کرنے کی سمری منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو پہنچادی گئی ہے ۔ اگر وزیرا علٰی پنجاب نے اس سمری کو منظور کرلیا تو اس جبری ریٹائرمنٹ سے ڈیڑھ لاکھ سے زاید اساتذہ بے روزگار ہوجائیں گے ۔ 55 سال کی عمر میں کسی بھی شخص کا تجربہ و مہارت بھی اپنے عروج پر ہوتے ہیں اور اس کے قویٰ بھی مضمحل نہیںہوئے ہوتے ۔ ایسے میں ان افراد کو بیک جنبش قلم سبکدوش کرنے کو علم دشمنی ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح 55 سال کی عمر وہ ہوتی ہے جس میں ایک فرد پر اس کے فرائض کا دباؤ بلند ترین سطح پر ہوتا ہے ۔ اس عمر میں اس کے بچے جامعات میں پڑھ رہے ہوتے ہیں جن کی فیسیں اسے ادا کرنا ہوتی ہیں ۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں وہ اپنی بچیوں کی شادی کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوتے ہیں ۔ ایسے نازک موقع پر ان ڈیڑھ لاکھ اساتذہ کو بیروزگار کرکے آخر تحریک انصاف کی حکومت پنجاب میں حاصل کیا کرنا چاہتی ہے ۔تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں مہنگائی کا طوفان ویسے ہی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ اب ایسے میں ان اساتذہ کو بیروزگار کرنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ان اساتذہ کے بچوں کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کوئی چھوٹی موٹی نوکری پکڑناپڑے گی اور ان کی بیٹیوں کی شادیاں ٹل جائیں گی ۔ اس سے معاشرے میں مزید بے اطمینانی پھیلے گی جو دیگر عوامل کے ساتھ مل کر کسی بھی وقت معاشرے کے سکون کو تہ و بالا کرسکتی ہے ۔ دنیا بھر میں ریٹائرمنٹ کی حد کو 60 سے بڑھا کر 65 برس کیا جارہا ہے مگر پاکستان میں وہی چال بے ڈھنگی ہے ۔ہم نہیں سمجھتے کہ جس نے بھی وزیر اعلیٰ پنچاب کو اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کی عمر 55 برس کرنے کی تجویز دی ہے وہ ان کا خیرخواہ ہے ۔یہ سراسر ان اساتذہ کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ یہ اس لحاظ سے بھی ناانصافی ہے کہ دیگر سرکاری محکمہ جات میں ابھی تک ریٹائرمنٹ کی حد 60 برس ہے تو پھر اساتذہ نے ایسا کیا قصور کیا ہے کہ انہیں قبل از مدت ہی ریٹائر کردیا جائے ۔ ہم وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے درخواست کریں گے کہ وہ اس سمری کو فوری طور پر مسترد کردیں اور ایسی تجویز دینے والوں کی حوصلہ شکنی کریں ۔ اس کے بجائے وہ نئے تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف توجہ دیں تاکہ دیگر بے روزگار نوجوانوں کو بھی روزگار مل سکے اور گلی محلوں میں گھومنے والے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بھی حاصل ہوں ۔