سانحہ12مئی اور عدلیہ کا کردار

126

سانحہ 12 مئی ہو ،سانحہ بلدیہ ٹاؤن ہو یا سانحہ طاہر پلازہ ، ایسے تمام سانحات سے بڑھ کر سانحہ یہ ہے کہ ان کے سارے مجرم نہ صرف آزاد ہیں بلکہ انہیں اس وقت کی بھی اور بعد کی بھی ساری حکومتوں نے اپنے اتحادی کا درجہ دے رکھا ہے ۔ ان سانحات کے مجرموں کو بچانے کے لیے جس طرح سے عدلیہ کا استعمال کیا گیا ہے ، وہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔دونوں کیسوں میں ایک اور مماثلت یہ بھی ہے کہ تمام مجرم قابل شناخت ہیں اور پھر بھی آزاد ہیں ۔ایسا کسی مہذب معاشرے میں ممکن نہیں ہے کہ مجرم سامنے دندناتے پھر رہے ہوں اور انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں ۔ 12 مئی کو جو کچھ بھی کراچی میں ہوا ، اُس کے شاہدین میں خود عدلیہ بھی شامل ہے ۔ اس کے متاثرین میں اے این پی ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ بھی رہی ۔ جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر کراچی کی سڑکوں پر جو خون کی ہولی کھیلی گئی اور اس میں جس طرح سے متحدہ قومی موومنٹ نے خونی کردار ادا کیا ، وہ پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے ۔ عدلیہ ہی پر حملہ کیا گیا اور عدلیہ ہی نے ہی تمام مجرموں کو ضمانتوں پر آزاد چھوڑا ہوا ہے ۔ اب اطلاع ملی ہے کہ سندھ حکومت 12 مئی کے مجرموں کی ضمانتوں کی منسوخی کے لیے سرگرم عمل ہوگئی ہے اور وسیم اختر سمیت متحدہ قومی موومنٹ کے 40 سے زاید نامزد ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ گو کہ حکومت سندھ کے ان اقدامات کا مقصد کہیں سے بھی سانحہ بلدیہ کے مقتولوں کے خون کا حساب لینا نہیں ہے بلکہ پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ میں تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کے اشتراک سے پیپلزپارٹی کی حکومت کے لیے بننے والے خطرے کا توڑکرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت متحدہ قومی موومنٹ کو دھمکانے کی کوشش میں ہے کہ اگر سندھ میں حکمراں پارٹی کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو متحدہ قومی موومنٹ بھی اس آگ سے محفوظ نہیں رہ سکے گی ۔ اس کے باوجود بھی یہ امر خوش آئند ہے کہ کسی بہانے سہی سانحہ 12 مئی کا کیس دوبارہ سے زندہ تو ہوا۔ اسے المیہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ سانحہ 12 مئی اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن جیسے کیس فریق مخالف کو دبانے کے لیے حکومتیں استعمال کرتی ہیں ۔ ایسے سرکاری اقدامات سے عوام میں عدلیہ پر سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے ۔ اس سے عوامی سطح پر پیغام پہنچا کہ فریق مخالف طاقتور ہو تو پھر عدلیہ سمیت کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ کچھ ایسا ہی پیغام شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عدالت عالیہ سندھ کی جانب سے عمر قید میں تبدیل کیے جانے سے بھی ملا ہے ۔ شعوری طور پر سوچ سمجھ کر کیے جانے والے قتل کے بعد جس طرح سے شاہ رخ جتوئی اور اس کے گھر والوں کی طرف سے دھونس، زبردستی ، دھمکی اور دولت کا استعمال کیا گیا ، وہ پاکستانی معاشرے اور عدلیہ پر ایک بدنما داغ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدلیہ شاہ رخ جتوئی کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔ اسی طرح سانحہ 12 مئی ، سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور سانحہ طاہر پلازہ جیسے کیسوں میں استغاثہ کی روایتی پیروی پر انحصار کرنے کے بجائے خود پیش قدمی کرے اور مجرموں کو قرارواقعی سزا دے تاکہ معاشرے میں انصاف کا چلن عام ہوسکے اور لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہو ۔ نہ صرف مجرموں کو قانون کے مطابق سزاد ی جائے بلکہ گزشتہ حکومتوں کے ایسے تمام عناصر کے بھی خلاف کارروائی کی جائے جو اب تک ایسے تمام کیسوں پر اثر انداز ہوتے رہے اور انہوں نے ان تمام کیسوں کو سردخانے کی نذر کردیا ۔ عدلیہ کو ایسے تمام کیسوں کی سماعت کے لیے خصوصی بنچ تشکیل دیے جانے چاہییں اور سماعت بھی روزانہ کی بنیاد پر ہو تاکہ ان مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ ہوسکے ۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سماعت میں جتنی تاخیر ہوگی ، مجرموں کو فائدہ ہوگا کیوں کہ شواہد ختم ہوتے جائیں گے ۔ تاخیر کا مطلب ہی یہ ہے کہ مجرموں کو نوازا جائے ۔ اب تک جو تاخیر ہوچکی ہے وہی شواہد کے خاتمے کے لیے خطرناک ہے ۔پیپلزپارٹی کی حکومت کا یہ ٹریک ریکارڈ ہے کہ اہم کیس دبادیے جاتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو پر کارساز حملہ کیس دفن کردیا گیا ۔ لیاقت باغ پنڈی میں بے نظیر بھٹو کے قتل کا کیس بھی پیپلزپارٹی نے چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی ۔ بے نظیر کی وزارت عظمیٰ میںکراچی میں ہی مرتضیٰ بھٹو کوپولیس نے قتل کردیا مگر پیپلزپارٹی کی حکومت یہی پتا نہیں چلاسکی کہ مرتضیٰ بھٹو کو مارے جانے کے احکامات جاری کس نے کیے تھے ۔ پیپلزپارٹی کے اس ٹریک ریکارڈ کے باوجود ہم حکومت سندھ سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ ایسے کیسوں کو ٹرمپ کارڈ نہ تصور کرے ۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ مجرموں کو قرار واقعی سزاد دلوائے نہ کہ اپنی حکومت کے قیام کے لیے مجرموں سے سازباز کرے ۔ عدلیہ کو بھی عوام میں پایا جانے والا یہ تاثر دور کر دینا چاہیے کہ وکیل کے بجائے جج کر لیا ہے۔12مئی کے حوالے سے ایک اور مضحکہ خیز بیان پیپلز پارٹی کے صدر نشین بر خوردار بلاول کا آیا ہے کہ سانحہ میں ملوث افراد عمران خان کی حکومت کا حصہ ہیں یا موجودہ وفاقی حکومت سانحہ 12 مئی میں ملوث کرداروں کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔ بلاول کوئی بیان جاری کرنے سے پہلے اپنی پارٹی کے سینئر لوگوں کو دکھا دیا کریں ۔ شاید انہیں معلوم ہو جاتا کہ12 مئی کے تمام کردار پیپلز پارٹی کی پناہ میں رہے ہیں اوران کو بار بار وزارتیں دی گئیں ۔ اب اگر عمران خان قاتلوں کو نفیس لوگ قرار دے رہے ہیں تو پیپلز پارٹی خود ان کی نفاست سے فیض اٹھاتی رہی ہے ۔ نائن زیرو پر جناب زرداری نے سجدہ سہو کیا جہاں الطاف ۔ زرداری بھائی بھائی کے نعرے لگے ۔ اس رشتے سے تو الطاف حسین بلاول زرداری کے چچا ہو گئے ۔ اب ان چچیروںکو دہشت گرد قراردے رہے ہیں ۔