قال اللہ تعالیٰ ۔۔۔ و ۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

65

دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔جو کوئی عاجلہ کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر ۔ اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی ۔ اِن کو بھی اور اْن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 17تا 20)
’’جو شخص روزے میں جھوٹ بولنا اور جھوٹے (بُرے) کام کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس سے بھی کوئی سر وکار نہیں ہے کہ وہ کھانا پینا چھوڑے (جب روزہ کا مقصد پورا نہیں کرتا تو بھوکا پیاسا مرنے کی کیا ضرورت ہے؟)۔ (بخاری) ’’اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اس کو نہ کوئی بے شرمی وبے حیائی کی بات کرنی چاہیے اور نہ شور وشغب کر نا چاہیے، اگر اس سے کوئی سخت کلامی یا گالم گلوچ یا ہاتھا پائی کرے تو اس کے جواب میں بس اتنا کہہ دے میرا روزہ ہے۔‘‘ (بخاری) ’’بہت سے روزے دار ہیں جن کے روزے کا حاصل بجز بھوک پیاس کی مصیبت جھیلنے کے اور کچھ نہیں اور کتنے ہی راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں جن کی نمازوں کا حاصل بجز مفت کی جگائی کے کچھ نہیں‘‘۔ (سنن الدارمی)