کوئٹہ میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا ،4 اہلکار شہید ،8 زخمی

109

کوئٹہ (نمائندہ جسارت+ مانیٹرنگ ڈیسک) کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن منی مارکیٹ میں پولیس موبائل کے قریب ہونے والے دھماکے میں 4 افراد شہید جبکہ 8 افراد کے زخمی ہوگئے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر حرکت میں آگئے اور موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دھماکے میں زخمی افراد کو ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے کون ملوث ہے؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بارے میں تفتیش شروع کر دی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا مسجد کے باہر کھڑی پولیس موبائل کے قریب ہوا۔ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق اور زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سیٹلایٹ ٹاؤن میں بم دھماکے میں جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے بزدلانہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک گھناؤنی سازش کے تحت صوبے اور ملک میں امن کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم عدم استحکام پیدا کرنے والوں کا مقابلہ پوری طاقت سے کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس کو شہر کے سیکورٹی انتظامات کا ازسر نو جائزہ لیکر مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ پولیس اور سیکورٹی کے دیگر ادارے جانوں کا نذرانہ دیکر عوام کی جان ومال کا تحفظ کر رہے ہیں اور دیرپا امن کے قیام کے لیے شہداء کی قربانیا ں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے شہداء کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہارکیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔