اہم خبریں

70

۔26ویں ترمیم کی منظوری،قبائلی ارکان کاتمام جماعتوں سے اظہار تشکر

اسلام آباد(صباح نیوز) قبائلی ارکان نے حکومت اپوزیشن تمامجماعتوں کا26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا ہے، قبائلی ارکان نے کہا ہے کہ اب 24جنرل نشستوں پر 6 ماہ کی مدت میں انتخابات کرائے جاسکیں گے ،نیا شیڈول جاری ہوگا اور نئی حلقہ بندیاں ہوں گی ۔ اس امر کا اظہار شمالی و جنوبی وزیرستان اضلاع سے ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ، علی وزیر خان اور مولانا جمال الدین نے قومی اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ محسن داوڑ قبائلی اضلاع کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی26 ویں ترمیم کے محرک ہیں۔محسن داوڑ نے کہاکہ فاٹا انضمام میں صوبائی نشستوںکا جو ٹائم فریم مقرر کیا گیا تھا اس میں توسیع کرتے ہوئے 18 ماہ درج کیے گئے ہیں۔یادرہے کہ فاٹا انضمام کے آئینی ترمیم کے لاگو ہونے کے دن سے 18ماہ میں صوبائی نشستوں کے انتخابات کرائے جائیں گے ، فاٹا انضمام کی آئینی ترمیم کی منظوری پارلیمنٹ نے مئی 2018ء میں دی تھی اس طرح ترمیم کو لاگو ہوئے ایک سال کا عرصہ ہوگیا ہے یعنی انتخابات کے لیے مزید8ماہ کی مدت کا تعین کیا گیا ہے۔ محسن داوڑ نے کہاکہ میں بلاتفریق تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ قبائلی عوام کے دکھوں کا مداوا کیا جائے اور اس کے لیے ہم پرامن آئینی سیاسی جمہوری جدوجہدکررہے ہیں۔ اپنے علاقوں کی عوام کے حقوق کے لیے ہماری جدوجہدجاری رہے گی۔ مولانا جمال الدین نے کہاکہ ہم تو چاہتے تھے کہ قبائلی اضلاع کا نیا صوبہ بنے اب جب کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ ہوگیا ہے ہم آئینی ترمیم کے مکمل طورپر ساتھ ہیں ، یہ تمام قبائلی ارکان کی کامیابی ہے ان کے حق نمائندگی کو وسعت ملی ہے۔ علی وزیر خان نے بھی تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم کی دفاعی پوزیشن
اسلام آباد(صباح نیوز) وزیراعظم عمران خان پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں دفاعی پوزیشن اختیار کییا ہوئے تھے۔اپنے خطاب میں اپوزیشن سمیت کسی پر تنقید نہیں کی بلکہ سیاسی جماعتوں سے اظہار تشکر کرتے نظر آئے، اپوزیشن جماعتوں نے بھی پرامن رہتے ہوئے وزیراعظم کا خطاب اطمینان سے سنا۔

فضل الرحمن کی سیکورٹی واپس نہیں لی ،شاہ محمود کی وضاحت
اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو قومی اسمبلی میں واضح کیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے سیکورٹی واپس نہیں لی گئی، سیکورٹی کے انتظام میں رد و بدل ضرور کیا گیا ۔ ہرشخص کو سیکورٹی کی 20,20 گاڑیاں نہیں دے سکتے ۔ ایوان میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا عبد الواسع کی طرف سے یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود تھے ۔ مولانا عبد الواسع نے کہا کہ حکومت نے سیکورٹی واپس نہ کی تو ہماری جماعت کے ایم این ایز بندوق اٹھا کر خود اپنے قائد کی حفاظت کریں گے ، حکومت کیسے چلے گی ۔