۔26ویں ترمیم کی صدارتی توثیق پر قومی اسمبلی کی 342 نشستیں بحال ہوجائینگی

63

اسلام آباد (صباح نیوز) قبائلی اضلاع سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیم کی صدارتی توثیق پر قومی اسمبلی کی 342 نشستیں بحال ہوجائیں گی، پختونخوا اسمبلی کی نشستیں 155 جبکہ پختونخوا کی قومی اسمبلی کی نشستیں61 ہو جائیں گی، موجودہ انتخابی شیڈول کے تحت فاٹا کی صوبائی نشستوں کے انتخابات ملتوی ہو جائیں گے، نئی حلقہ بندیاں ہونے پر نیا شیڈول جاری کیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی سے متذکرہ26 ویں آئینی ترمیم منظوری کے لیے اگلے مرحلے میں سینیٹ آف پاکستان کو ارسال کی جائے گی، سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظوری کے بعد قبائلی اضلاع کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی آئینی ترمیم توثیق کے لیے صدر پاکستان کو بھجوائی جائے گی۔ صدارتی توثیق پر سابق فاٹا کی 12 قومی اسمبلی کی نشستیں بحال ہوتے ہوئے قومی اسمبلی کی مجموعی نشستیں دوبارہ 342 ہوجائیگی۔ اسی طرح پختونخوا اسمبلی کی نشستوںمیں 2 خواتین کی نشستوں کے ساتھ 26 کا اضافہ ہوجائے گا، آئین میں فاٹا انضمام کے تحت 16 نشستوںکا اضافہ کرتے ہوئے پختونخوا اسمبلی کے لیے 145 نشستوںکا تعین کیا گیا تھا، 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت8جنرل اور 2 خواتین کی نشستوں میں اضافہ ہوجائے گا جس کے تحت پختونخوا کی نشستیں 155ہو جائیں گی، 6 ماہ کی مدت میں صوبائی نشستوں کے انتخابات کروائے جائیں گے، آئینی ترمیم میں فاٹا انضمام کی تاریخ سے 18 ماہ کی مدت میں انتخابات کرانے کاکہا گیا ہے اور اس ترمیم کو منظور ہوئے ایک سال 2 ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے اس طرح 6 ماہ کی مدت میں انتخابات کرائے جاسکیں گے۔ موجودہ انتخابی شیڈول کے تحت انتخابات نہیں ہوسکیں گے،24 صوبائی جنرل نشستوں کی نئی حلقہ بندیوں کے بعد نیا شیڈول جاری کیا جائے گا۔پختونخوا کی قومی اسمبلی کی مجموعی نشستیں61 ہو جائیں گی،موجودہ نشستیں 55 ہیں، ترمیم کے تحت51 جنرل نشستیں، 10 خواتین کی نشستیں ہونگی۔