مشیر خزانہ نے اعتماد میں لیے بغیر آئی ایم ایف معاہدے کی تصدیق کی ، رضاربانی

29

اسلام آباد( آن لائن ) سینیٹر میاں رضاربانی نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران کہا ہے کہ مشیر خزانہ نے ایوان کو اعتماد میں لیے بغیر آئی ایم ایف معاہدے کی تصدیق کردی ہے ،وکی لیکس دستاویز کے مطابق امریکا آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کا سہارا لے کر دیگر ممالک کو کمزور کرتا ہے،آئی ایم ایف معاہدے سے سیاسی اور بیرونی اثرات بھی پڑیں گے، طالبان کے ساتھ اگر امریکا کی بات چیت ناکام ہوتی ہے یا ایران پر امریکا جنگ جھونکتا ہے تو پھر پاکستان کی کیا پوزیشن ہوگی ۔ سینیٹر کبیر احمد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کھوکھلے نعروں کے بل بوتے اور سب کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اقتدار پر بیٹھ گئے،مہنگائی نے گزشتہ 70سال کے ریکارڈ توڑ دیے ۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اپوزیشن سابقہ دور سے متعلق بھی ایوان میں گفتگو کرے، قومی ادارے گروی رکھ دیے گئے،سابق حکومت نے ڈالر کو 104 روپے بحال کرنے کے لیے 20ارب ڈالر حکومت نے خرچ کیے ہیں، سابق حکومت نے بجلی تو بنائی مگر ترسیل کے لیے کچھ نہیں کیا ۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاکستان سے مذاکرات نہیں ہوئے بلکہ آئی ایم ایف کے آئی ایم ایف سے مذاکرات ہورہے ہیں، شبر زیدی نے ٹیکس چوری کے لیے لوگوں کو اکسایا ۔سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ این آر او کا پیچھا چھوڑ دیں 9 ماہ ہوچکے اور اب تک کتنے لوگوں کا پیسہ باہر ملک سے واپس آیا ہے ۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ روایت تھی کہ ماہ رمضان سے 10روز قبل یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاء خورونوش آجاتی تھیں مگر امسال ایسا نہ ہوا، 2 ارب روپے یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے دیا گیا وہ کہاں گیا؟ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ حکومت نالائق نہیں بہت چالاک ہے ان کے کچھ قوتوں سے معاہدے تھے اور یہ ان معاہدوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ غور وغوض کے بعد کیا گیا،مانتا ہوں مہنگائی ہوئی لیکن کوئی حکومت نہیں چاہتی کہ ان کے دور میں مہنگائی ہو، جس حالت میں ہمیں ملک ملا سب کو علم ہے ۔ وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ جس وقت عالمی سطح پرپیٹر ولیم مصنوعات کی قیمتیں کم تھیں اس وقت یہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی ،حکومت نے پچھلے7 ماہ سے کوشش کی کہ پیٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ نہ کیا جائے۔