شاہ زیب قتل کیس :شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

107

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزائوں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا‘ عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جبکہ ملزمان مرتضیٰ لاشاری اور سجاد تالپور کی عمر قید برقرا رکھنے کا حکم دیا‘ عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر11 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔ انسداددہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت سنائی تھی‘سجاد تالپور اور مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی‘مجرمان پر الزام تھا کہ 24 دسمبر 2012ء کو معمولی تنازع پر شاہ رخ جتوئی نے ساتھیوں کے ہمراہ ڈی ایس پی اورنگزیب کے بیٹے شاہ زیب پر فائرنگ کرکے اس کو قتل کردیا تھا‘ اس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے مجرمان کی اپیلیں از سر نو سماعت کے لیے سندھ ہائی کورٹ بھجوائی تھیں‘اپیلوں کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نظر اکبر پر مشتمل خصوصی بینچ نے کی۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ میں کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ درست تھا‘ میڈیکل رپورٹس کے مطابق وقوع کے وقت شاہ رخ جتوئی کی عمر 19سال سے زاید تھی‘ عدالت نے مقدمہ جونائیل سسٹم کے تحت چلانے کی درخواست مسترد کی ‘عدالت کا فیصلے میں کہنا تھا کہ تینوں عینی شاہدین کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں‘ عینی شاہدین اور واقعاتی شہادتیں مجرمان پر جرم ثابت کر تی ہیں‘ مقتول کے ورثا نے مجرمان کو معاف کردیا اور قتل عمد قابل دیت/قابل معافی جرم ہے‘ سرفراز شاہ کیس میں بھی ورثا کے معاف کرنے پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا ‘ دہشت گردی کی دفعات قابل معافی نہیں‘ مجرمان کو بری نہیں کیا جاسکتا۔