کراچی کے ترقیاتی فنڈ میں اربوں کی کرپشن کی تحقیقات کا آغاز،بلدیہ افسران کیخلاف بڑی کارروائی کی تیاری

250

کراچی (اسٹاف رپورٹر) تحقیقاتی اداروں نے کراچی کے ترقیاتی فنڈ میں اربوں روپے خوردبرد کی تحقیقات شروع کردیں، خورد برد گزشتہ 10سال کے دوران ترقیاتی کاموں کے جعلی ٹینڈروں ذریعے کی گئی، تحقیقاتی اداروں اربوں روپے کی ادائیگیوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا۔ بلدیہ کراچی کے افسران کیخلاف بڑی کارروائی کی تیاریاں،تحقیقاتی اداروں نے ڈیوالو کے ذریعے کی جانے والی اربوں روپے کی ادائیگیوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا، سب سے زیادہ جعلی ٹینڈر روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اور ایجوکیشن ورکس جیسے محکموں سے کرائے گئے، محکمہ روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ کے ایگزیکٹو انجینئر فضل منگی پربوگس ٹینڈرنگ کے ذریعے کئی ارب کی ادائیگیوں میں ملوث بتائے جارہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی ترقی کے اربوں روپے کے فنڈز کی بوگس ٹینڈرنگ کے ذریعے کی جانے والی بندر بانٹ کا بڑا اسکینڈل منظر عام پر آگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کو کراچی کے ترقیاتی کاموں کے لیے ملنے والے اربوں روپے فنڈز غیر متعلقہ محکمے کے ذریعے ہڑپ کیے گئے، اس سلسلے میں اے جی سندھ سے گزشتہ 10سال کے دوران کی جانے والی ادائیگیوں کا ریکارڈ تحقیقاتی اداروں نے حاصل کرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ادائیگیاں سندھ حکومت محکمہ روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ کے طاقتور ایکسین کی جانب سے کی گئی ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ محکمے اور ایکسین کا تعلق بلدیہ عظمیٰ کراچی سے نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کے ایم سی کے فنڈز کی ادائیگیاں مذکورہ محکمے سے کرائی گئیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کے محکمہ ایجوکیشن ورکس کے ذریعے بھی بوگس ٹینڈرنگ کراکر کروڑوں روپے کا فنڈ ٹھکانے لگایا گیا، سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران کے مبینہ گٹھ جوڑ سے کراچی کے ترقیاتی فنڈز پر انتہائی منظم انداز سے لوٹ مار کی گئی جس کے باعث شہر میں ترقیاتی کام صرف فائلوں تک محدود ہیں جبکہ ترقیاتی فنڈز ہڑپ کرلیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے شہر قائد کے ترقیاتی فنڈزکی لوٹ مار کرنے والے عناصر سے تمام فنڈز وصول کرنے اور ملوث افسران کیخلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔