سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات، مساجد پر حملے اور ایک شخص ہلاک

142

سری لنکا میں ایسٹر بم ھماکوں کے بعد سے کشیدگی کم نہ ہوسکی۔ مشتعل ہجوم نے مساجد اور کاروباری مراکز پر حملے کیے اور قران قریم کے نسخے جلا دیئے۔

 

حکام کے مطابق گذشتہ روز درجنوں افراد نے مشرقی علاقے ‘چلوا’ اور ‘نیگومبو’ میں رات گئے مساجد پر حملے کیے۔ قرآن کریم کے نسخے جلائے۔ کاروباری مراکز پر پتھراؤ کیا اور انکی گاڑیاں بھی نذر آتش کر دیں اور ایک شخص کو تشدد کرکے ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق ایسٹر دھماکوں کے بعد یہ بد امنی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

 

حکام نے بتایا کہ مشتعل ہجوم نے ہلاک ہونے والے شخص کو اس کی بڑھئی کی دکان میں تیز دھار آلات سے زخمی کیا۔ فسادات کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

مسلم مخالف فسادات میں مارے جانے والے شخص کی موت کا اعلان پورے ملک میں رات گئے کرفیو کے نفاذ کے بعد کیا گیا جس کے بعد پولیس کو حکم دیا گیا کہ وہ مشکلات پیدا کرنے والوں کے خلاف سختی سے پیش آئے اور انہیں طاقت کے زور پر معاملات  خراب کرنے سے روکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگاموں کا آغاز فیس بک پر مسلمانوں کے خلاف بیان بازی سے ہوا۔ حملوں کے بعد مسلم کمیونٹی میں خوف کی  لہر دوڑ گئ ہے۔

قبل ازیں سری لنکا میں ایسٹر دھماکوں کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملوں میں اضافے کے بعد حکام نے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر پابندی عائد کر دی ہے۔

  پابندی کا فیصلہ مساجد پر پتھراؤ اور مسلمان تاجروں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔

مسلم کونسل آف سری لنکا کے مطابق حملوں میں مسلمانوں کی متعدد املاک اور اب تک 8 مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم تاحال نقصانات کا حتمی تعین نہیں کیا گیا۔

مسلم کونسل کے مطابق دھماکوں کے بعد سے مسلمانوں کو دھمکی آمیز پیغامات ملنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

جبکہ سری لنکا کے وزیرِاعظم رانیل وکرما سنگھے نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کی وجہ سے گذشتہ ماہ ہونے والے حملوں کی تحقیقات متاثر ہو رہی ہیں۔

واضح رہے اکیس اپریل کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو اور نواح کے ہوٹلوں اور گرجا گھروں میں ہونے والے 9 خود کش دھماکوں میں 253 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ اس دہشت گردی کے بعد سے اب تک ملک میں حالات کشیدہ ہیں

دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند اسلامی تنظیم ‘دولت اسلامیہ’ نے قبول کی تھی۔ جس کے بعد سری لنکن سکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا تھا۔