میرا گھر میری جنت

115

لطیف النساء

بچپن میں مجھے یہ گانا بہت اچھا لگتا تھا کہ ‘‘یہ میرا آشیاں میرا گھرمیری جنت‘‘ بچوں کی زباں پر ہر چیز جلدی چڑھ جاتی ہے میں گنگناتی تھی اب یہ سب سمجھ آتا ہے مجھے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ ہمارا گھر ہے جبکہ ہمارے ارد گرد لوگ جھگیوں میں بھی رہتے تھے اور ہم رات میں راستوں میں ، پلوں کے نیچے ۔ درختوں اور فٹ پاتھوں پر بھی لوگوں کو سوتے ہوئے دیکھتے تھے آج بھی دیکھتے ہیں۔ دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس گھر نہیں ۔
گھر تو وہ جگہ ہے جہاں مہر بان ماں باپ ، دادا ، دادی ، بہن بھائی سب اکٹھے رہتے ہیں، ایک دوسر کی خدمت کرتے ہیں ، کھیلتے ہیں ، خوش ہوتے ہیں ، خوشی ، غمی کے ساتھ معاون مدد گار ہوتے ہیں ، نخرے اٹھانے والے بھی ہوتے ہیں اور سختی سے غلطیوںکی اصلاح کرنے والے اور کبھی سزا دے کر سدھارنے والے کتنی محبت اور الفت سے پیار بھی کرتے ہیں پسند اور نا پسند کا خیال کرتے ہیں ،بیماری میں ہمدردی کرنے ، دل جوئی کرنے ، بڑوں کا ادب احترام اورچھوٹوں پر شفقت کرتے یہ سب لمحات نہ جانے کیسے گزرتے چلے جاتے ہیں ۔ رشتے بدلتے رہتے ہیں مگر اپنے گھر کی اہمیت بڑھتی اور مضبوط ہوتی جاتی ہے کیونکہ سب ہی ایک دوسرے کے لیے اچھے سچے جذبے رکھتے ہیں اور ہر وقت ایک دوسرے کے لیے خوشی خوشی کام کرتے ہیں اس میں عزت سمجھتے ہیں بالکل اسی طرح ایک گھر ہمارا ملک بھی ہے ، بہت حسین ، بہت خوبصورت اللہ کا شکر وسائل سے بھر پور ذخائر سے مالا مال ، لوگ بھی ایک دوسرے پر جان دینے والے تعاون کرنے والے مگر ان ہی میںسے کچھ بھٹک گئے کچھ بہک گئے کچھ سست و کاہل اور نا امید ہو گئے کہ مسائل کا شکار ہو گئے ہیں ، سمجھنا چاہتے ہیں ، سمجھ نہیں پا رہے ، اسی گھر کو مضبوط ایمان والے ماں باپ گویا حکومت اور حکومتی اداروں کی شفقت آموز توجہ کی ضرورت ہے اور کچھ خود کو بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپنے وسائل کو احتیاط سے استعمال کرتے ہوئے وسائل کے تحفظ کی اشد ضرورت ہے ، بے غرض محبت اور محنت کی ضرورت ہے صبر و برداشت اور جانفشانی کی ضرورت ہے ۔ اسی گھر کو اپنا گھر بنانے کے لیے اس کے تمام تر وسائل کو تحفظ دیں ۔ سڑکوں کو پلوں کو گاڑیوں کو اچھی حالت میں رکھیں کسی بھی بگاڑ کا خود ہی ازالہ کریں، نئی سڑکیں بنتی رہیں لیکن پرانی سڑکوں کی مسلسل کھدائی ہوتی رہتی ہے ۔ حکومتی محکموں میں اس کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے ۔ اس طرح بجلی ، گیس پانی میدان ،مکان دکان سپتال سب کی صفائی اور اچھائی کا خیال رکھیں انہیں تباہ کرنے سے بچائیں ، اپنے درختوں کا تحفظ کریں ، مزید درخت لگائیں اور پرانوں کو بھی تحفظ دیں ۔ اپنا ہر کام گھر کا ، اسکول کا ، جاب کا ، کہیں کا بھی ہو احساس ذمہ داری اور ایمان داری سے کریں ، اپنا گھر سمجھ کر تاکہ سارے گھر والے مطلب اہل وطن ، خوش رہیں ۔ اور کیونکر قربانیاں اچھے سچے جذبے ، غموں میں مرحم رکھنا در اصل انسانیت کی خدمت اور گھر کی خوشی ہے تو ہمیں اپنے گھر کی خاطر ہر دکھ سہنا ہے کیونکہ گھر تو آخر اپنا ہے۔