مصر میں آمریت‘ سیسی کا انجام خطرے میں

197

 

معاملہ کچھ تو یوں ہے کہ اندرون خانہ سیاست الجھ گئی ہے، کچھ یہ بات بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست نے تھکادیاہے اورپھریوں بھی ہے کہ عرب اتحادیوں کا سیاسی ومعاشرتی استحکام مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن نے مصرپرتوجہ دینابہت حدتک ترک کردیا ہے۔ امریکاکے دیرینہ حلیف اورعرب دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک میں کچھ ایساہورہا ہے جوحسنی مبارک کے دورمیں بھی نہیں ہوا۔ عبدالفتاح السیسی ملک کومطلق العنان طرزِحکومت کی طرف اِس طور دھکیل رہے ہیں جس کی نظیرنہیں ملتی۔ اس عمل میں جنرل سیسی خطے کوایک بارپھرعدم استحکام کی طرف تیزی سے لے جا رہے ہیں۔ 2013ء میں منتخب صدر محمد مرسی اوران کی حکومت کاتختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سیسی نے ایک ایساآئین نافذ کیا جس میں بنیادی حقوق کی بہت حد تک ضمانت فراہم کی گئی تھی اور ساتھ ہی صدر کے اختیارات پرتھوڑی سی قدغن لگانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ عبدالفتاح السیسی اوران کے ساتھیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آئین میں ترامیم کے ذریعے اور حکومتی اقدامات کے توسط سے جمہوریت کو مکمل بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چند برس کے دوران سیسی نے آئین پرعمل سے گریز کیا ہے اورزیادہ سے زیادہ طاقت اپنی ذات میں مرتکزکرنے کی کوشش کی ہے۔ اخوان المسلمون کے خلاف شدید کریک ڈاؤن جاری ہے اور حکومت کے کسی بھی اقدام کے خلاف آوازبلند کرنے والوں کو خاموش کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جارہی۔
سیسی اب آئین میں ترمیم کے ذریعے ایک ایسی طرزحکومت کی راہ ہموارکررہے ہیں جس میں صدرکا منصب غیرمعمولی حد تک ذاتی نوعیت کی آمریت پر مبنی رہ جائے گایعنی اقدامات کوچیلنج کرنے کی گنجائش برائے نام رہ جائے گی۔ یہ مصریوں کے لیے تو بری خبر ہے ہی،باقی دنیا کے لیے بھی کوئی اچھی خبرنہیں۔ علاقائی سطح پرعدم استحکام اس حد تک بڑھے گاکہ باقی دنیابھی متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکے۔ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ جب تمام اختیارات کسی ایک شخصیت میں مرتکزکردیے جائیں تو اقتدار کو طول دیناممکن ہوتاہے اور خاص طورپر ایسے میں کہ جب مسلح افواج ساتھ دے رہی ہیں جیساکہ سیسی کے معاملے میں ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی تسلیم کرناپڑے گی کہ تمام اختیارات ایک شخصیت میں مرتکزکرنے کی صورت میں حکومت یاطرزِحکومت کاخاتمہ ایسی حالت میں ہوتاہے کہ اچھاخاصا انتشار باقی رہ جاتاہے۔
سیسی نے آئین میں جو ترامیم کی ہیں،ان سے 3 طرح کا فائدہ ہوگا۔
٭ پہلا فائدہ: سیسی کو2022ء میں صدرکامنصب چھوڑنا تھا۔ آئینی ترامیم کی مددسے اب وہ2034ء تک اقتدارسے چمٹے رہنے کی گنجایش پیداکرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ 2011ء میں عرب دنیامیں اُٹھنے والی بیداری کی لہرنے مصر میں صدرکے منصب کو دوبار 4، 4 سال کی میعاد تک محدود رکھا تھا یعنی کوئی بھی شخص 2 سے زیادہ مرتبہ صدرمنتخب نہیں ہوسکتا تھا۔ اس وقت مصرمیں سیسی کے اقتدارکوطول دینے کے حق میں اٹھنے والی آوازیں برائے نام ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ ان کی جابرانہ طرزحکومت سے بیزارہوچکے ہیں۔
٭ دوسرافائدہ: آئینی ترامیم کے تحت سیسی کوصدرکی حیثیت سے عدلیہ میں اعلیٰ عہدوں پربراہِ راست تقررکااختیارمل جائے گااوربجٹ کے حوالے سے بھی وہ اہم فیصلے کرسکیں گے۔ مصرکاعدالتی نظام چاہے جتنابھی کمزورہو، حقیقت یہ ہے کہ ایسے جج بڑی تعدادمیں موجود ہیں، جو قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں۔
٭ تیسرا فائدہ: آئینی ترامیم سے مصرکی مسلح افواج کوریاست کے اجزا باہم مربوط رکھنے اورجمہوریت و آئین کاتحفظ یقینی بنانے کے نام پرسیاسی معاملات میں مداخلت کاباضابطہ اختیارمل جائے گا۔ بادی النظرمیں ایسالگتاہے کہ اس حوالے سے متعارف کرائی جانے والی آئینی ترمیم صدرکے منصب کوکسی حد تک کنٹرول کرنے کامقصدحاصل کرے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ چندبرسوں کے دوران سیسی نے مسلح افواج میں اعلیٰ ترین سطح پرتقررکے حوالے سے غیرمعمولی اختیارات اپنی مٹھی میں لیے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے معاشی اقدامات، خوفزدہ کرنے کی پالیسی اوربرطرفیوں کا سہارا بھی لیا ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آئینی ترامیم سے بہت پہلے ہی سیسی نے بیشتر اہم ترین اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں۔ سب سے بڑھ کراہم اورقابلِ غور بات یہ ہے کہ سیسی نے اپنے اقتدار کے خلاف کسی بھی نوعیت کی مہم یاتحریک کو ناکام بنانے کااہتمام کر رکھا ہے۔ آئینی ترامیم کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہیں۔ سیسی کو سالِ رواں کے وسط کے بعدمصری کرنسی کی قدرمیں کمی اورمختلف معاملات میں زرِاعانت ختم کرنے کا اعلان کرناہے۔ سیسی نے اپنی پوزیشن کوپہلے ہی مستحکم کرلیاہے تاکہ کسی بھی حلقے کی طرف سے کی جانے والی مخالفت زیادہ رنگ نہ لاسکے۔ان اقدامات سے مصرکے باشندوں کے لیے زندگی مزیدمشکل ہوجائے گی اور سیسی سے اقتدارسے بیزارافرادکی تعدادمیں بھی اضافہ ہوگا۔ سیسی چاہتے ہیں کہ یہ دونوں اقدامات ایسی حالت میں کریں کہ امریکا کی طرف سے بھرپورحمایت کااظہار کیا جائے۔ ٹرمپ کے دورِحکومت میں ایسا کرنا سیسی کے لیے زیادہ سود مند ہوگا۔ دونوں اقدامات کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔
جولوگ مصرمیں فوج کے آمرانہ اقتدار کی تاریخ سے اچھی طرح واقف ہیں،وہ سوال کرسکتے ہیں کہ ان آئینی ترامیم سے فرق کیاپڑے گا۔حقیقت یہ ہے کہ سیسی جوکچھ کرناچاہتے ہیں وہ آئین کے پورے ڈھانچے کوشدیدمتاثرکرے گا۔ ان آئینی ترامیم کے ذریعے سیسی اپنی پسند کے نظام حکومت کوباضابطہ تسلیم شدہ ادارے کی شکل دیناچاہتے ہیں۔ یہ نظامِ حکومت مطلق العنانیت سے حسنی مبارک کے دورکے مقابلے میں بہت قریب ہے۔ حسنی مبارک نے برائے نام ہی سہی مگر چند اختیارات سویلین اداروں کوبخشے تھے۔ سول سوسائٹی گروپس کے پنپنے کی گنجایش رکھی تھی، جس کے نتیجے میں عوام کوکسی حدتک توسکون کاسانس لینے کا موقع ملتا تھا۔ سویلین اداروں کوپنپنے اورکچھ کرنے کی تھوڑی بہت گنجایش دینے کی صورت ہی میں حسنی مبارک کوکم وبیش 30 سال حکومت کرنے کاموقع ملا، مگر سیسی ایک ایسے طرزِحکومت کی راہ ہموارکررہے ہیں، جسے عوام کی برائے نام بھی حمایت حاصل نہ ہوگی اوریوں اِس کاوجودبہت نازک ہوگا۔ کسی بھی ہنگامی کیفیت میں ایسے طرزحکومت کوختم کرناآسان ہوگا مگراس کے نتیجے میں انتشارالبتہ بڑے پیمانے پرپھیلے گا۔ حسنی مبارک کے برعکس سیسی نے پارلیمان اورجامعات دونوں کو سیکورٹی فورسزکے مکمل کنٹرول میں دے دیا ہے،جس کے نتیجے میں دونوں ہی اداروں میں فوجی اقتدارکی کھل کرحمایت کرنے والوں کوبھرتی ہونے کاموقع ملاہے اوروہی آگے بھی بڑھ رہے ہیں۔ سیسی نے آزاد سیاسی سرگرمیوں پرمکمل قدغن لگادی ہے۔قانون کی بالا دستی برائے نام رہ گئی ہے اورجو بھی حکومت کے خلاف کچھ کہے اسے بالکل برداشت نہیں کیا جاتا۔ حسنی مبارک کے دورمیں حکومت نوازجماعت کے ارکان کے ساتھ کاروباری دنیا کی شخصیات اورمقامی عمائدین کوبھی فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کیاجاتاتھا اورکوشش کی جاتی تھی کہ اقتدارمیں شرکت کاتھوڑابہت تصور ضرورپایاجائے مگر سیسی کے دورمیں اس کی بھی گنجایش نہیں چھوڑی گئی۔ صرف وہ لوگ اقتدار کا مزہ چکھ سکتے ہیں جو فوجی حکومت کے انتہائی حاشیہ بردار ہوں۔ سیسی فوج کے سیلف کنٹرول کے حوالے سے جنونی کیفیت میں مبتلا ہیں۔حسنی مبارک بہت سے چھوٹے معاملات پرتوجہ نہیں دیتے تھے مگر سیسی نے اس معاملے میں حدکردی ہے۔اس کی ایک واضح مثال چندماہ قبل جاری کیاجانے والاوہ فرمان ہے،جس کے تحت عمارتوں کے لیے چند رنگوں کی اجازت دی گئی ہے ۔
نئی آئینی ترامیم سے ایک بڑی خطرناک صورت حال یہ پیداہوگی کہ سیسی کی ذات کسی بھی نوعیت کی قانونی یاعدالتی کاروائی سے مبرا ہوگی اوریوں انتقالِ اقتدارکے حوالے سے انتہائی پیچیدگی کی راہ ہموارہوگی۔ ایسے میں سوچابھی نہیں جاسکتا کہ ایسا طرزحکومت پروان چڑھے جس میں تمام سیاسی کھلاڑیوں کو کھیلنے کاموقع ملے۔ تمام اختیارات کواپنی ذات میں سمیٹنے کی ذہنیت بالآخرانتہائی خرابی پرمنتج ہوتی ہے۔ اس کی کئی مثالیں بھی دنیا کے سامنے ہیں۔ کسی بھی دوسرے طرزحکومت کے مقابلے میں خالص ذاتی نوعیت کے طرزحکومت کے خونیں انجام کاامکان زیادہ قوی ہوتاہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ خالص شخصی نوعیت کی حکومتیں انتہائی کھوکھلے اداروں کے سہارے کھڑی رہتی ہیں اورعوام میں ان کی حمایت برائے نام ہوتی ہے۔ جب تک عوام کوموقع نہیں ملتا تب تک توٹھیک ہے مگرموقع ملتے ہی عوام ایسی کسی بھی حکومت سے جان چھڑانے میں زیادہ دیرنہیں لگاتے۔ اختیارات کے غیرمعمولی ارتکاز، ناقص حکمرانی اورحکومت کے خلاف جانے والے تمام افراد کواقتدار کے ایوان سے دوررکھنے کی روش پرگامزن رہنے کے نتیجے میں خالص شخصی حکومت کا تختہ الٹے جانے کاخطرہ ہروقت رہتا ہے۔ ایسے نظامِ حکومت کی زد میں آنے والے شہری موقع ملتے ہی تختہ الٹنے کی سوچتے ہیں اوراِس سوچ پر عمل بھی کر گزرتے ہیں۔
مصر کے لیے یہ وقت بھی بہت اہم ہے۔ چند عشروں کے دوران امریکا کے لیے مصر کی سفارتی اوراسٹریٹجک اہمیت گھٹی ہے مگر پھر بھی 10 کروڑ کی آبادی، محل وقوع اورامریکا کے دیرینہ حلیف کی حیثیت سے اربوں ڈالر کاحصول مصر کو امریکا کے لیے اب بھی اہم ملک کادرجہ دیے ہوئے ہے۔ مصر امریکی اسلحہ کے حصول کے حوالے سے بھی نمایاں رہا ہے۔ اس کے باوجودامریکانے مصرمیں اختیارات کے بڑھتے ہوئے ارتکازاورانتہائی درجے کی مطلق العنانیت کودیکھتے ہوئے بھی خاموش و لاتعلق رہنے کوترجیح دی ہے مگرخیر! واشنگٹن کے پالیسی ساززیادہ سے زیادہ اختیارات اپنی ذات میں سمیٹنے اورسمونے کی سیسی کی کوششوں سے صرفِ نظرنہیں کرسکتے کیونکہ سیسی کی غیرمعمولی مطلق العنانیت سے صرف مصرنہیں بلکہ پورے خطے کے غیرمستحکم ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی اپنی حکومت کے جابرانہ اقدامات پر کی جانے والی غیرملکی میڈیاکی شدید نکتہ چینی کو مصر کے معاملات میں مداخلت قرار دے کر مستردکرنے کی روش پر گامزن رہے ہیں مگرحقیقت یہی ہے کہ اپنی بقا کے لیے سیسی کے نظامِ حکومت کوبیرونی امداد،سفارتکاری اورسلامتی کے امورمیں معاونت کی اشد ضرورت ہے۔ مصر کے سب سے بڑے شراکت دارکی حیثیت سے اب بھی امریکاکوغیر معمولی اثرونفوذ حاصل ہے۔ سیسی نے سابق امریکی صدراوباما سے تواچھے تعلقات نہیں رکھے مگرٹرمپ سے ان کے تعلقات اچھے رہے ہیں اوریوں امریکا بہت سے معاملات میں اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہے۔ وہ امریکی قانون سازبھی غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں جومصر کے لیے فوجی امداد کا ایک ارب30کروڑڈالرسالانہ کا پیکیج کنٹرول کرتے ہیں۔ امریکی ایوان صدر اور کانگریس دونوں کویہ بات بالکل واضح کردینی چاہیے کہ وہ سیسی کے زیادہ سے زیادہ اختیارات کوہاتھ میں لینے کے کھیل کوسمجھتے ہیں اوراِسے کسی بھی اعتبارسے بھرپورقبولیت نہیں بخشیں گے۔ اس بات کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی جاسکتی کہ امریکا سیسی کی طرف سے تمام اوربے لگام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوششوں کی راہ میں دیواربن سکے گا مگر ہاں! اس بات کاامکان ضرورباقی ہے کہ مستقبل کے امریکی پالیسی ساز آج کے معاملات پرنظر ڈالیں تواِسے سنگین غلطی اورایسا موقع گردانیں گے جسے آسانی سے ہاتھ سے جانے دیا گیا۔