چین کے ایغور مسلمان رمضان کی برکتوں سے محروم

74

 

رافعہ زکریا
ماہِ رمضان کا آغاز ہوچکا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھ رہے ہیں۔ ناروے اور آئس لینڈ کے یخ بستہ قصبوں سے لے کر انڈونیشیا اور ملائیشیا کے گرم علاقوں تک، ہر جگہ روزہ دار مسلمانوں کے لیے مقامی ریت و رسم، خصوصی طعام اور روحانیت کی رونقیں دیکھنے کو مل رہی ہیں، لیکن اگر یہ سب کچھ کہیں نظر نہیں آرہا تو وہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں نظر نہیں آرہا۔
سنکیانگ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر پوسٹ کے مطابق رمضان المبارک میں کھانے کی جگہیں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی بلکہ اس پوسٹ میں یہاں تک لکھا گیا تھا کہ رمضان کے دوران روزے، شبِ بیداری اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا جائے۔
سیو ایغور نامی ویب سائٹ کے مطابق دنیا میں چین وہ واحد ملک ہے جہاں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور گزشتہ 3 برسوں سے یہاں کے مسلمانوں پر روزہ رکھنے پر پابندی عائد کی جاتی رہی ہے۔ دیگر رپورٹس کے مطابق رمضان میں عائد کی جانے والی پابندیوں کا اطلاق بالخصوص اسکولوں اور دفاتر پر ہوتا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین نے 10 لاکھ ایغور نسل کے افراد کو نظربندی کے وسیع کیمپوں میں قید رکھا ہوا ہے۔ مغربی چین میں ایک بڑے صحرائی علاقے کے کنارے پر واقع کیمپ میں سیکڑوں ایغور مسلمانوں کو شدید دباؤ والے عقیدہ سازی (اِن ڈاکٹرائنیشن) پروگرامز میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے جن میں انہیں لازماً چینی زبان اور ہنر سکھانے کے ساتھ خود کو اپنی مذہبی شناخت ترک کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
یہ ریاست میں چلائے جانے والے اُن کئی نظربندی کے کیمپوں میں سے ایک ہے، جن کے گرد خار دار تاریں لگی ہیں اور جن کی نگرانی مسلح پہرے دار کرتے ہیں۔ کیمپ کے ایک شخص نے بتایا کہ جنازے میں آیات کی تلاوت کرنے پر اسے پکڑ لیا گیا۔ کیمپ میں 3 ماہ بعد اسے اور دیگر افراد کو اپنی گزشتہ زندگیوں سے ترک تعلق کا کہا گیا۔ ان کیمپوں، جن میں برین واشنگ کا کسی نہ کسی قسم کا عنصر موجود ہے، میں گوشہ نشین کیے گئے کئی لوگوں سے بھی اسی قسم کے ترک تعلق کی توقع کی جاتی ہے۔
ایغور مسلمانوں پر کریک ڈاؤن کو چینی حکومت کی جانب سے آزمائے جانے والے وسیع نگرانی (سرویلنس) پروگرام سے منسلک کیا جاتا ہے۔ سنکیانگ کاشغر کا اہم شہر ہے جو ایک زبردست مسلم تاریخ کا امین بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس شہر میں ہر جگہ کیمرا اور نگرانی کا نظام کام کررہا ہے۔ اس کا مقصد ظاہر ہے کہ جاسوسوں اور مخبروں کی انسانی ذہانت کو ٹیکنالوجی سے بدلنا ہے۔ چیک پوائنٹس پر باقاعدگی کے ساتھ ایغور افراد کو قومی شناختی کارڈ دکھانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مسلح محافظ ان سے پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو پولیس ایغورافراد کے فونز لے کر یہ دیکھتی ہے کہ آیا ان کے فونز میں وہ لازمی سافٹ ویئرز انسٹال ہیں یا نہیں جو حکومت کو ان کی کالز کی مانیٹرنگ میں مدد کرتے ہیں۔
کبھی کبھار تو پولیس ان موبائل فونز سے ایسی چیزیں بھی ڈیلیٹ کردیتی ہے جس کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی۔ (ایک شخص نے شکایت کی کہ ایک بار پولیس افسر نے موبائل فون سے اونٹ کی تصویر ڈیلیٹ کردی تھی)، تاہم حالات چاہے جیسے بھی ہوں، ان کے پاس اس بات کا پورا اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہے کسی شخص کو چیک پوسٹ سے آگے جانے کی اجازت دیں یا نہ دیں۔
آبادی پر کنٹرول اور مانیٹرنگ کا فقط ایک یہی طریقہ نہیں۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکشن پر پہلے ہی سے حکومت کا کنٹرول ہے، یعنی اگر کوئی شخص حکومت کے خلاف کوئی بات کہتا ہے یا پھر کوئی شخص اپنے عقیدے سے بہت زیادہ وفاداری دکھاتا ہے تو وہ خطرے کی زد میں ہے۔ کاشغر کے مختلف علاقوں میں ’مانیٹرز‘ مقرر کیے گئے ہیں جن کا کام کئی خاندانوں کی نگرانی رکھتے ہوئے یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ اصولوں کی خلاف ورزی نہ کر رہے ہوں، مثلاً پابندی کے باجود کہیں وہ چوری چھپے روزہ تو نہیں رکھ رہے ہیں؟
دنیا میں چین کی اُبھرتی طاقت کے ساتھ پاکستان جیسے ممالک میں بھی بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں کے خلاف غیر انسانی اور ناجائز کریک ڈاؤن پر لب کشائی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کئی مسلم ممالک چینیوں کے مقروض ہیں اور ایغور مسئلے پر کسی قسم کی زبانی مخالفت یا اقدام سے چین سے وابستہ ان کے مالی فوائد کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
امریکا جو اس وقت ماضی کے مقابلے میں سب سے زیادہ اسلاموفوبیا کا شکار ہے، وہ بھی اسی طرح زیادہ اس معاملے پر دلچسپی نہیں رکھتا۔ گزشتہ ہفتے چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے تجارتی مذاکرات میں ایغور افراد اور مذہبی طور پر دبائے جانے والوں کے مسئلے کو اٹھایا تک نہیں گیا جس کی زد میں یہ لوگ اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔
جب چین کے آگے کھڑے ہونے کی بات آتی ہے تو مذہبی آزادی اور اسلامی یکجہتی دونوں ہی بھلا دی جاتی ہیں۔ البتہ جو چند عناصر کوشاں ہیں وہ اقلیت میں ہیں۔ ایک ترک سرگرم کارکن نے حال ہی میں ’فاسٹ فرام چائنا‘ نامی ایک مہم شروع کرنے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے روزہ دار موبائل فونز، کپڑوں اور الیکٹرانکس جیسی چینی مصنوعات کے استعمال اور خریداری سے اجتناب کریں گے۔ لیکن ابھی یہ نہیں معلوم کہ FastFromChina# کے ساتھ چلنے والی مہم مستقبل میں لوگوں کی توجہ حاصل کرسکے گی یا نہیں۔
امریکی مسلمان جیسے دیگر گروہ چین جاکر اور وہاں رمضان کا مہینہ گزار کر اس ملک میں روزہ رکھنے پر پابندیوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ چونکہ وہ امریکی ہیں اس لیے روزہ رکھنے پر چین ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا اور وہاں جانے والے افراد کو یہ امید ہے کہ چین کے اندر عوامی سطح پر روزہ رکھنے سے ان لاکھوں ایغور افراد کی طرف دھیان دلانا ممکن ہوسکے گا جو اپنے ہی ملک میں روزہ رکھ نہیں پاتے۔
خود پاکستان بھی ہر گزرتے دن، گھنٹے اور منٹ کے ساتھ چینی قرضوں، چینی ساختہ انفرااسٹریکچر اور ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ مقروض ہوتا جا رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں چند اِکا دُکا افراد یا اداروں کے سوا کہیں بھی ٹھوس اور موثر بنیاد پر ایغور افراد کے لیے آواز نہیں اٹھائی گئی اور انہیں درپیش مسائل توجہ حاصل نہیں کرسکے۔ یہ ایک ایسے خطے میں ہورہا ہے جو جغرافیائی طور پر کافی قریب واقع ہے، جہاں مذہبی آزادی اور خودمختاری کی اس قدر سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
رواں ماہ پاکستانی پوری آزادی کے ساتھ روزے رکھ رہے ہیں (حتیٰ کہ یہاں غیر مسلم اقلیتوں کو بھی عوامی جگہوں پر کھانے پینے کی اجازت نہیں اور تمام ریستوران بھی بند ہیں) مگر ایسے زیادہ لوگ نظر نہیں آتے جنہوں نے ایک لمحہ نکال کر ان افراد کی قسمت پر غور و فکر کیا ہو، جو انہی کی طرح اپنے مذہبی عقیدے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے معاملات میں مگن پاکستان کے کسی بھی مذہبی دانشور یا ٹی وی اینکر یا پھر فوجی اہم شخصیات یا سویلین وزرا میں سے ایک کوئی بھی ایسا نہیں جو پڑوس میں موجودہ صورتحال پر آواز بلند کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔
اگر یہ لوگ ہی آواز اٹھانے کا دم یا حوصلہ نہیں رکھتے تو پھر عام پاکستانیوں سے کیا امید کی جاسکتی ہے جو شاید خود تو روزے سے ہیں مگر ان لوگوں کے لیے آواز اٹھانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے جو انہی کی طرح روزہ رکھنا چاہتے ہیں۔
(بشکریہ: ڈان)