رمضان المبارک : ترکی میں عثمانیوں کی تابندہ روایات عالم خان

92

 

ترکی میں اب بھی عثمانیوں کی اولاد زندہ اور اپنے آبا و اجداد کے نقش قدم پر رواں دواں ہے۔ اپنی روایات کو فرض سمجھ کر برقرار رکھتے ہوئے موسم سرما کے آتے ہی پرندوں کے لیے تیار گھونسلے لگانے ہوں یا برف باری میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر پرندوں کے لیے دانے پھیلانے ہوں، یہ سب اس قوم کو ورثے میں ملی اقدار ہیں۔
ترک قوم کی ایک بہترین روایت یہ بھی تھی کہ جہاں بھی تندور ہو وہاں صاحب ثروت لوگ پیسے جمع کرتے تھے اور تنگ دست لوگ وہاں سے اپنے بچوں کے لیے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے یا احسان مند ہوئے بغیر مفت روٹیاں لے جاتے تھے۔ الحمدللہ یہ روایت آج بھی برقرار ہے۔ رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی تندوروں پر لوگ جاتے ہیں، پیسے جمع کرتے ہیں اور مستحقین عزت کے ساتھ شام کو افطاری سے پہلے بچوں کے لیے روٹیاں لے جاتے ہیں۔ ایمان داری کا عالم یہ ہے کہ تندور کا مالک جہاں ایک ایک روپے کا حساب رکھتا ہے، وہیں جس کے پاس ایک روٹی خریدنے کے لیے پیسے ہیں تو وہ مفت میں لینے سے نہ صرف انکار کرتا ہے بلکہ اس عمل کو اپنے دوسرے کسی تنگ دست مسلمان بھائی کے حق پہ ڈاکا ڈالنا تصور کرتا ہے۔
گزشتہ برس رمضان کی بات ہے کہ میں ایک ساتھی کے ہاں افطاری کے لیے جا رہا تھا۔ مصروفیت کے باعث اُس نے روٹی لانے کی ذمے داری مجھے سونپی۔ تندور سے ترکش بریڈ (افغانی نان طرز کی روٹی ) لینے کے لیے مجھ سے پہلے ایک سفید ریش بزرگ کھڑے تھے۔ تندور کے مالک نے 3 روٹیاں دیں تو باباجی نے ایک روٹی واپس کردی اور کہا میرے پاس صرف 2 روٹیوں کے پیسے ہیں۔ کاؤنٹر پہ بیٹھے نوجوان نے کہا کہ اس کے پیسے میں نہیں لیتا، لیکن اُس بزرگ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہمارے لیے 2 روٹیاں کافی ہیں، جس کے پیسے میرے پاس ہیں۔ اس لیے کسی اور کا حق میں نہیں لے سکتا۔ میں یہ پورا مکالمہ سن رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا اے کاش! یہی احساس اور شعور ہمارے ہاں بھی پیدا ہوجائے تو کسی کے گھر میں بچے افطاری کے وقت خالی دستر خوان پہ نہیں بیٹھیں گے۔
بے شک رمضان نعمتوں کا مہینہ ہے مگر عبادات کے ساتھ اس ماہ مبارک میں اپنے ارد گرد موجود تنگ دستوں کا ضرور خیال رکھیں۔ آپ کے بچوں کے سامنے دسترخوان پہ موجود پھل اور رنگ برنگ کھانوں میں نادار ہمسایے کے بچوں کو بھی یاد کریں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کے گھر کے کھانے کی خوشبو یا پلیٹوں کی اواز کسی بچے کو اپنے والدین سے کہنے پہ مجبور کرے کہ ان کے گھر میں کتنا زیادہ اور اچھا کھانا بنتا ہے ناں!۔ ہم کب بنائیں گے ماں؟؟
یقین کیجیے آپ کی پلیٹوں اور چمچوں کی آواز موسیقی کی وہ قسم ہے جس کے بارے کسی دانا نے فرمایا تھا جب اس سے پوچھا گیا! کس قسم کی موسیقی حرام ہے؟ تو اس نے کہا ’’مال داروں کے برتنوں میں چمچوں کی وہ آواز ، جب اُسے نادار سنتے ہوں‘‘۔