نوجوانوں کی فکری اصلاح ہی کے ذریعے تبدیلی ممکن ہے، راشد نسیم

58
راشد نسیم گلشن معمارضلع شمالی میں تربیت گاہ و دعوت افطار سے خطاب کررہے ہیں
راشد نسیم گلشن معمارضلع شمالی میں تربیت گاہ و دعوت افطار سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (پ ر)امت مسلمہ کے نوجوانوں نے مغربی تہذیب کو مسترد کردیا ہے آج دنیا میں نوجوانوں میں بیداری کی لہرچل پڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشدنسیم نے گلشن معمار جماعت اسلامی یوتھ ضلع شمالی کی تربیت گاہ و دعوت افطارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا مولانا مودودی ؒنے لوگوں کو برصغیر سے جمع کیے جو 75افراد جمع ہوئے تھے ۔مرکز منصورہ میں75افراد کی فہرست آج بھی موجود ہے اس وقت مولانا کی عمر 38سال کے نوجوان تھے اور ان کے ساتھ شریک 75افراد نوجوانوں نے جماعت اسلامی بنائی پھر اقامت دین کی جدوجہدشروع کردے یہ ایک عالمگیر اور اقامت دین کی تحریک بن گئے جو دنیا میں ظلم ناانصافیوں اور فرسودہ نظام کو ختم کر کے عدل وانصاف پر مبنی اسلام کے عادلانہ نظام کے لیے کوشاں ہے۔رمضان المبارک قرآن کا مہینہ ہے آج زیادہ نوجوان تراویح میں نظر آتے ہیں۔نوجوانوں کی فکری اصلاح ہی کے ذریعے تبدیلی ممکن ہے ،اجتماعیت کو مضبوط بنانے کیلیے ضرورت ہے کہ قرآن وسنتؐ سے تعلق کو مضبوط بنایا جائے اور اگرمسلمان قرآن سے ہدایت لیں گے تو یقیناً اس دنیا کی قیادت اس کے ہاتھ میں ہوگی قرآن مکمل ضابطہ حیات ہے جس سے پوری دنیا میں امن وانصاف قائم ہوسکتا ہے ۔اس موقع پر امیر ضلع محمدیوسف ،جنرل سیکرٹری عرفان احمد،جی آئی یوتھ صدرفیصل جمیل،جنرل سیکرٹری سید مطاہرعلی اورناظم علاقہ ابوالخیر موجود تھے۔