پاکستان امریکا ایران کشیدگی ختم کرانے کیلیے کردار ادا کرے،سراج الحق

126
لاہور : امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق حلقہ پی پی155میں چودھری منظور حسین گجر کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کررہے ہیں
لاہور : امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق حلقہ پی پی155میں چودھری منظور حسین گجر کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور بحیرہ عرب میں امریکی بحری جنگی جہازوں کی موجودگی سے پاکستان براہ راست متاثر ہوگا، اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان ترکی کے ساتھ مل کر کردار ادا کرسکتا ہے۔ آئی ایم ایف عوام کا خون چوسنے کی شرط پر قرض دے رہاہے، آئی ایم ایف کا کام بغیر جنگ کے ملکوں کے وسائل پر قبضہ کر نا ہے،آئی ایم ایف کی شرائط پر معاہدہ ہوا تو 2 سال کے بعد ہمیںہر قومی ادارہ ان کے ہاتھ دینا ہوگا،آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو پارلیمنٹ کی منظوری کے ساتھ مشروط کیا جائے اور پارلیمنٹ کو اب تک ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے، نئی حکومت آنے کے بعد مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں چودھری منظور حسین گجر گروپ لیڈراین اے128 کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گئے گرینڈ افطار ڈنر کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ذکراللہ مجاہد اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنائو پورے خطے کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔جنگوں کی صورت میں خطے بھوک اور افلاس کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ اسلحے کے کارخانے اور فیکٹریاں چلتی ہیں اور اسلحہ بکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا جان بوجھ کر ایران پر جنگ مسلط کررہا ہے جبکہ پاکستانی حکومت کاامریکی دبائو میں آکر ایران کے ساتھ معاہدوں سے انحراف امریکی غلامی اور بزدلی کی بدترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ سودی معیشت اور قرضوں کی لعنت سے نجات حاصل کی جائے اور توبہ و استغفار کے بعد اللہ سے رجوع کیا جائے اور اسلام کا نظام عشرو زکوٰۃ نافذ کیا جائے۔سود اللہ اور رسول ؐکے ساتھ جنگ ہے جو ہم نہیں جیت سکتے۔زکوٰۃ و عشر برکت کا نظام ہے اس سے ہی معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کاکام ملکوں اور قوموں کو اپنے چنگل میں پھنسانا اور انہیں اپنا غلام بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان میں اللہ کا در کھلا ہے حکومت سود سے توبہ کرے۔مدینے کی اسلامی ریاست اور سودی معیشت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔یہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران مہنگائی کا اعتراف بھی کرتے ہیں مگر مہنگائی کم کرنے کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں۔حکومت غریبوں کی بے بسی پر بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔لوگ رمضان میں سحری اور افطاری کا انتظام کرنے سے بھی قاصر ہیں جبکہ حکمران ان کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیا کی سستے داموں فروخت کے لیے اربوں روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا مگرملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں سے لوگ مایوس اور خالی ہاتھ واپس آتے ہیں۔مہنگائی کی وجہ سے لوگ بازاروں اور سبزی و فروٹ منڈیوں میں دھکے کھانے کے بعد بغیر کچھ خریدے گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔حکومت نے فوری طور پر عوام کو ریلیف نہ دیا تو لوگ عید کی خوشیوں سے بھی محروم رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ بپھرے ہوئے لوگ سڑکوں پر آگئے تو حکمرانوں کو جائے پناہ نہیں ملے گی۔