گوادر :حمال فتح مری لاپتا افراد کی فہرست میں شامل تھا

193
گوادر:پی سی ہوٹل میں فورسز سے مقابلے میں مارے جانیوالے دہشت گرد کی تصویر
گوادر:پی سی ہوٹل میں فورسز سے مقابلے میں مارے جانیوالے دہشت گرد کی تصویر

کوئٹہ /راولپنڈی (نمائندہ جسارت +مانیٹرنگ ڈیسک ) بلوچستان کے ضلع گوادر میں فائیو اسٹار نجی ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شروع کیا گیا کلیئرنس آپریشن 21 گھنٹوں میں مکمل کرلیا گیا، پاک فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں تینوں حملہ آوروں کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاکستانی بحریہ کے اہلکار سمیت 5 افراد شہید ہوئے جبکہ 6 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں پاک فوج کے 2 کیپٹن، پاک بحریہ کے 2 اہلکاراور پی سی ہوٹل کے عملے کے 2 ملازمین شامل ہیںیہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گوادر فائیو سٹارہوٹل پردہشت گرد حملے میں لاپتا افراد کی فہرست میں شامل حمال فتح مری سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوا ہے ۔ شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق گیٹ پر موجود گارڈ نے دہشت گردوں کو ہوٹل کے اندر داخل ہونے سے روکا، دہشت گرد ہوٹل کے مہمانوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے۔آئی ایس پی آر کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ہوٹل میں مہمانوں اور ملازمین کا تحفظ یقینی بنایا گیا، دہشت گردوں کو ہوٹل کی چوتھی منزل کی گیلری تک محدود کیا گیا، مہمانوں اور عملے کو نکالنے کے بعد کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہوٹل کی سیڑھی میں دہشت گردوں نے فائرنگ کی، پاک فوج، بحریہ اور پولیس کی ٹیمیں بروقت ہوٹل پہنچیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گردوں نے ہوٹل کے سی سی ٹی وی کیمروں کو ناکارہ بنایا اور ہوٹل کی چوتھی منزل پر بارودی سرنگیں بچھائیں، سیکورٹی فورسز نے چوتھی منزل تک رسائی کے لیے راستہ بنایا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آپریشن کے دوران 5 شہری بھی شہید ہوئے تھے، شہید ہونے والوں میں ہوٹل کے 4 ملازمین اور نیوی کا اہلکار شامل ہیں۔شہدا میں سیکورٹی گارڈ ظہور اور ہوٹل ملازمین بلاول، فرہاد اور اویس شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 6 افراد زخمی بھی ہوئے، زخمیوں میں فوج کے 2 کیپٹن، نیوی کے 2 اہلکار اور ہوٹل کے 2 ملازمین شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ گوادر آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشیں شناخت کے لیے تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ذمے دارانہ رپورٹنگ پر میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ذمے دارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے دہشت گرد فورسز کی کارروائی سے بیخبر رہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جدید اسلحہ سے لیس دہشت گردوں نے ہوٹل کے اندر داخل ہوتے وقت کلاشنکوف اور دیگر چھوٹے ہتھیاروں نے 2نجی سیکورٹی گارڈکو قتل کردیا۔ داخل ہونے کے بعد بلندی پر واقع ہوٹل کی عمارت سے نیچے گوادر پورٹ اور پاک بحریہ کے دفترپر راکٹ اور دستی بم پھینکے ۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ کے کمانڈوز اور پاک فوج46ایف ایف کی کوئیک رسپانس فورس ہوٹل پہنچی اور ملزمان کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس دوران پاک فوج کے 2 کیپٹن انور کاکڑ اور کیپٹن علی رضا زخمی ہوگئے۔ بعد ازاں پاک فوج کی 5لائٹ کمانڈو بٹالین کی ٹیم ہوٹل پہنچی اور ملزمان کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ دہشت گرد اس دوران چوتھی منزل پر پہنچے جہاں سے وہ فائرنگ کرتے رہے۔ سیکورٹی فورسز کے دستوں نے ہوٹل کی 3 منزلوں کو کلیئر کرنے کے بعد چوتھی منزل کی طرف پیش قدمی کی ۔ اس دوران بالائی منزل کے راستے پر نصب 2 بم ناکارہ بنائے۔ سیکورٹی فورسز نے ہوٹل میں پھنسے 20 کے قریب مہمانوں اور ہوٹل عملے کو ریسکیو کرنے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف حتمی کارروائی شروع کی۔ 20 سے 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس آپریشن کا اختتام چوتھی منزل پر 3دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہوا۔ آپریشن میں پاک فوج کی46ایف ایف،35ایف ایف،25سندھ ،21ایف ایف، ایف سی کے 133 اور88ونگ ،پاک بحریہ کے کمانڈوز کے علاوہ پاک فوج کی 5 لائٹ کمانڈو بٹالین کے کمانڈوز نے حصہ لیا۔ آپریشن کی نگرانی پاک فوج کی440بریگیڈ کے کمانڈر نے کیا ۔ جی او سی33ڈویژن نے بھی آپریشن کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق شہید افراد میں پاک بحریہ کے اہلکار عباس خان، ہوٹل کا سیکورٹی سپروائزر اویس علی شاہ، سیکورٹی گارڈ ظہور ، سیکورٹی گارڈ بلاول ، ہوٹل کافوڈ منیجر فرہاد شامل ہیں۔ زخمیوں میں پاک فوج کے کیپٹن انور کاکڑ، کیپٹن علی رضا، پاک بحریہ کے سپاہی ناصر، سپاہی محسن، پی سی ہوٹل کا سول انجینئر جاوید اور سیکورٹی گارڈ رشید شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کالعدم بلوچ لیبریشن آرمی نے گوادر کے فائیو سٹار پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پردہشت گرد حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے جنگجوئوں نے ہوٹل میں گھس کر کارروائی کی جن کا اصل نشانہ فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے چینی انجینئرز اور غیر ملکی سرمایہ کار تھے، بی ایل اے کے ترجمان جیرند بلوچ کے مطابق فائیو سٹار ہوٹل حملہ میں مری قبیلے کے 35 سالہ نوجوان حمال فتح بلوچ المعروف حبیب ولد قادر خان نے منصیب بلوچ عرف کریم بلوچ اور کچکول بلوچ عرف کمانڈو کے ساتھ ملکرمسلح کارروائی کرکے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر تمام حملہ آور سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگئے۔ کالعدم بی ایل اے کی ویب سائٹ بلوچ ورنا نیوز میں بلوچ نوجوانوں کی لاپتا افراد کی جاری کردہ فہرست میں گوادر ہوٹل پر حملے میں شامل حمال فتح بلوچ کا نام بھی شامل تھا اور بی ایل اے کی جانب سے مسلسل یہ الزام عاید کیا جا رہا تھا کہ حمال فتح بلوچ المعروف حبیب ولد قادر خان مری لاپتا اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی حراست میں ہے مگر گزشتہ روز گوادر کے فائیو سٹار ہوٹل پر حملہ آور ہوتے ہوئے مارے جانے والے دہشت گردوں کی نعشوں کی شناخت کے دوران ایک حملہ آور کی شناخت حمال فتح عرف حبیب ولد قادر خان مری کے نام سے ہونے سے بی ایل اے کی جاری کردہ لاپتا افراد کی فہرست بھی غلط ثابت ہوگئی ہے اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کا یہ مؤقف بھی سچ ثابت ہوگیا ہے کہ حمال فتح بلوچ ان کی حراست میں نہیں تھا بلکہ وہ بی ایل اے کے فراری کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کررہا ہے، بلوچ تنظیموں کے مطالبہ پر لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیشن کے روبرو بھی بلوچ رہنماسیکورٹی اداروں کے سچائی پر مبنی موقف کو جھٹلا تے ہوئے بضد تھے کہ حمال بلوچ پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے قبضہ میں ہے۔ لاپتا افراد کی فہرست میں زیادہ تر ایسے نوجوانوں کا نام شامل کیا گیا ہے جوکہ بھارت کی سرپرستی میں قائم کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردی کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن پاک چین اقتصادی رہداری منصوبہ کوناکام بنانے کے لیے بھارت نواز دہشت گردی نیٹ ورک کی جانب سے گوادر منصوبے کو لاحق خطرات کے پیش نظر اس سیکورٹی کا انتظام پاک فوج کے سپرد کیا گیا تھا اور پاک فوج کے سخت ترین سیکورٹی اقدامات کی وجہ سے بھارت نواز بی ایل اے کے حملہ آور گوادر میں مقیم چینی انجینئرز اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو نشانہ بنانے اپنی شیطانی منصوبہ بندی میں کامیاب نہیں ہورہے۔ گزشتہ ہفتے بھی گوادر کے مقام اورمارا میں بھی دہشت گردانہ حملے میں 11 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 14 افراد شہید ہوگئے تھے۔گوادر کے فائیوسٹار ہوٹل پر حملے کی تفصیلات منظر عام پر آنے اور بی ایل اے کی جانب سے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کے بعد حکومت پاکستان کا یہ مؤقف عالمی سطح پر بھی درست ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت اور بعض دوسرے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاک چین راہداری اور گوادر پورٹ کے عظیم منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے دہشت گردی سمیت اپنے تمام تر شیطانی حربے استعمال کررہی ہیں مگر پاک فوج ان تمام ملک دشمن قوتوں کے منصوبوں کو خاک میں ملارہی ہے۔
آئی ایس پی آر