فلسطینی خاندان کو زندہ جلانے والا صہیونی مجرم عدالت سے بری

71

اسرائیل کی مرکزی عدالت نے عدالتی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند سال قبل غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں ایک نہتے فلسطینی خاندان کو گھر میں بند کرکے زندہ جلا کر شہید کرنے والے مجرم کو بری کر دیا۔

عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل اور فلسطینی خاندان کے قاتل کے وکیل کے درمیان مجرم سے دوابشہ خاندان کے قتل کا جرم ساقط کرنے سے اتفاق کیا گیا اور اس کے بعد مجرم کو بری کرتے ہوئے اس پر صرف اس جرم کی منصوبہ بندی کا الزام باقی رکھا گیا ہے۔

فلسطینی خاندان کو بے دردی کے ساتھ شہید کرنے کے جرم میں‌ ملوث مجرم کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ عدالت پانچ سال سے بھی کم وقت کی قید کی سزا مقرر کرے۔

عبرانی میڈیا کے مطابق عدالت میں فلسطینی خاندان کے قتل کے خلاف پیش کردہ شواہد ناکافی ہیں جس سے ملزم پر جرم ثابت کرنا مشکل ہے۔ جبکہ مجرم خود بھی عدالت میں اقبال جرم کرچکا ہے۔

مجرم کو عدالت نے گذشتہ برس جولائی میں جیل سے رہا کر دیا تھا جس کے بعد اسے گھر پر نظر بند رکھا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مجرم سے زیادہ تر اعترافات نفسیاتی دباؤ اور تشدد سے لیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطین میں آباد کاروں کے ایک گروہ نے چند سال قبل غرب اردن کے شہر نابلس میں ایک فلسطینی خاندان کو گھر میں آگ لگا کر شہید کر دیا تھا۔ اس واقعے میں دوابشہ خاندان کے چار افراد میں میاں بیوی اور ایک شیرخوار شہید ہوگئے تھے جب کہ ایک چار سالہ بیٹا بری طرح جھلس گیا تھا۔

یاد رہے فلسطینی خاندان کو زندہ جلائے جانے کا یہ واقعہ 2015 میں پیش آیا تھا۔