محمد عامر کی ورلڈ کپ میں شمولیت کے امکانات روشن

119

کراچی (سید وزیر علی قادری) پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہے جہاں اس نے ایک ٹی ٹوئنٹی کھیل کر دورے کا باقائدہ آغاز کے بعد 5ایک روزہ میچوں کا بھیپہلا میچ جو بارش کی نذر ہوگیا تھا اپنے سفر کو آگے بڑھا دیا ہے ۔ دوسرا ون ڈے آج کھیلا جائے گا جس کے دوران بارش ہونے کی پینشگوئی بھی کی گئی ہے ۔ اس وقت آئی سی سی ورلڈ کپ کے حوالے سے ہاٹ ایشو فاسٹ بولر محمد عامر کی قومی ٹیم میں شمولیت کابنا ہوا ہے۔ دورہ انگلینڈ کے بعد اہم معرکہ 12ویں ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کو سر کرنا ہے۔ جس کے لیے دورہ انگلینڈ کے دوران مختلف وینیوز اور مختلف کنڈیشنز پر گرین شرٹس اپنے آپ کو تیار کررہی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ اور ہائی آفشلز لندن میں موجود ہیں۔ اس وقت ٹیم ورلڈ کپ کے اسکواڈ میں فاسٹ بولر محمد عامرکی شمولیت کے حوالے سے مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جو قومی کرکٹ بورڈ کے سرپرست اعلی بھی ہیں نے جب ٹیم نے بنی گالا میں ان سے ملاقات کی تھی کپتان سرفراز سے محمد عامر کے حوالے سے سوال کیا تھا تو کپتان کا کہنا تھا کہ اس سوال کا جواب سلیکشن کمیٹی سے پوچھا جائے جب 1992ورلڈ کپ کے ہیرو نے چیئرمین انضمام سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ فلحال عامر کی کارکردگی اتنی متاثر نہیں ہے اس لیے اس کو ورلڈ کپ کے مجوزہ اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا جس پر عمران خان نے کہا تھا کہ یہ بات تو طے ہے کہ محمد عامر میں میچ ون کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس پر اس کی دورہ انگلینڈ میں کارکردگی کو مشروط کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اور سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق محمد عامر کو ورلڈ کپ سے دور رکھنا چاہتے ہیں مگر ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور بولر کوچ محمد اظہر کی خواہش اور اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ محمد عامر کو ورلڈ کپ کا حصہ بنایا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محمد عامر اپنی کارکردگی کی بنیاد پر یا بڑوں کی آشیر باد پر ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کا حصہ بنتے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ قوی امیدیہ ہی ہے کہ محمد عامر بہرحال ورلڈ کپ میںقومی ٹیم کاحصہ ہونگے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی بھی منفی صورتحال دوران ورلڈ کپ پید ا ہوئی تو ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں پر اس کا بھی منفیاثر پڑے گا۔ اور ٹیم مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین احسان مانی کی مستقبل میں بورڈ سے وابستگی کو ٹیم کی ورلڈ کپ میں متاثر کن کارکردگی سے مشروط کردیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ محمد عامر کی حمایت میں سابق لیجنڈ کرکڑز میدان میں آچکے ہیں ان کا ہر ہر موقع پر یہ کہنا ہے کہ آنے والے ورلڈ کپ میں محمد عامر کو ہر صورت ٹیم میں شامل کرنا چاہیے۔ان کھلاڑیوں میں وسیم اکرم عبد القادر شبیر احمد عامر سہیل شعیب اختر جاوید میانداد راشد لطیف اور معین خان شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر محمد عامر کو ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ بنایا جائے گا تو قربانی کا بکرا کون بنے گا؟نئے چہروں میں محمد حسنین اور فہیم اشرف ہی کے نام اس سلسلے میں سامنے آرہے ہیں اور قیاس ہے کہ ان دونوں میں سے فہیم اشرف کو ڈراپ کردیا جائے گا۔ محمد حسنین ٹیم کا بدستورحصہ رہیں گے۔بہرحال یہ تو آنے والے دنوں میں جبکہ انگلینڈ کے خلاف 5 ایک روزہ میچوں کی سیریز بھی اختتام کو پہنچ چکی ہوگی واضح ہوگا کہ ٹیم میں کارکردگی کی بنیاد پر اکھاڑ پچھاڑ ہوگی یا فیصلہ محمد عامر کے نام پر ہو چکا صرف کاغذی کارروائی باقی ہے جس میں آئی سی سی کو آگاہ کرنا شامل ہے۔

190511-10-