ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ سیاست برائے تجارت ہے، عبدالقیوم شیخ

66

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) سابق رکن سندھ اسمبلی عبدالقیوم شیخ نے اپنے ایک بیا ن میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ایک ٹی وی شو میں اس بیان کہ سیاسی جماعتوں میں انتخابات کرانے سے جماعتوں میں انتشار پیدا ہوتا ہے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے اس موقف سے معلوم ہوتا ہے کہ انتخابات کرانے سے ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موروثی نشستیں رکھنے والے خاندانی حکمران عوام کے حالات سے بے خبر رہتے ہیں اور ان کی نظریں صرف انتخابی اخراجات پر ہوتی ہیں جبکہ قرضوں پر قرضے لے کر عوام پر بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصول اقتدار کے لیے نظریہ پاکستان کے بعد نظریہ لسانیت رکھی گئی، جس سے ملک میں انتشار پیدا ہوا اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ سیاست برائے تجارت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات کرانے سے انتشار پیدا ہونے کی کوئی فکر نہیں اور اگر فکر ہے تو سیاسی جماعتوں میں انتخابات کرانے سے سیاسی جماعتوں میں انتشار پیدا ہونے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 70 سال سے جارحیت کا مظاہرہ کرر ہا ہے لہٰذا عوام کو جنگی حالات میں زندگی گزارنا ہوگی اور پاک فوج کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر ملک کی سلامتی اور تحفظ کے لیے چلنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں پر عوام کو اعتماد نہیں۔