بینکوںکا زکوٰۃ کٹوتی کرنا درست نہیں ،جامعہ بنوریہ عالمیہ

97

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس شیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہا ہے کہ بینکوںکا زکوٰۃ کٹوتی کرنا درست نہیں ،زکوٰۃ مستحق تک پہنچانا ضروری ہے ،امسال فی کس صدقہ فطر گندم 100، جو 400، کھجور 1600اور کشمش کے اعتبار سے 1920 روپنے بنتاہے ، جن کو زکوٰ ۃدی جاسکتی ہے انہیں کو فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنہیں زکوٰۃنہیں دے سکتے انہیں فطرہ بھی نہیں دیا جاسکتا،بینکوں اوردیگرمالیاتی اداروں کے توسط سے زکوٰۃ دینا جائز نہیں اوراگرکسی نے دیدی تو شرعاً زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔ جمعہ کوجامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان میںمفتی محمد نعیم نے کہاکہ بینکوں کے ذریعے زکوۃ کی کٹوتی درست نہیں ہے کیونکہ اس میں شرعی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے ہیں ، صدقات واجبہ مستحق تک پہنچنا ضروری ہوتے ہیں،انہوں نے کہاکہ صدقہ فطر واجب ہے روزے کیطرح زکوٰۃ ، صدقات واجبہ اورنفلی صدقات کابھی زیادہ سے زیادہ اہتمام کرناچاہیے لیکن صدقات واجبہ میں خیال رہے کہ اس کی ادائیگی کے ساتھ مستحق تک پہنچانابھی فرض ہے،وطن عزیزکے حالات اورگزشتہ 42سال کے تجربات کے بعدیہ واضح ہے کہ بینکوں اورمالیاتی اداروںکے توسط سے اداکی جانے والی زکو ٰۃ مستحقین تک نہیںپہنچتی ہے اس لیے ملک کے تمام مکاتب فکرکے علمااورمفتیان کرام کااتفاق ہے کہ بینکوں اوردیگرمالیاتی اداروں کی توسط سے زکوٰۃ دینا جائز نہیں اور اگرکسی نے دیدی تو شرعاً ادائیگی نہ ہونے کیوجہ سے اس کودوبارہ زکو ٰۃ دینی ہوگی۔