کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ تب شروع کرسکتے ہیں جب وفاقی حکومت ہمیں سرکلر ریلوے کا راستہ حوالے کرے گا، وزیراعلیٰ سندھ

129

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)وزیر اعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سنگل ونڈو فیسلیٹی اور ای کنسٹرکٹ،آن لائن کنسٹرکشن پرمٹ اپروول سسٹم کی افتتاح کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہم کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ تب شروع کرسکتے ہیں جب وفاقی حکومت ہمیں سرکلر ریلوے کا راستہ(رائٹ آف وے)حوالے کرے گا،

وفاق رائٹ آف وے دینے میں تاخیر ی حربے استعمال کررہی ہے اس وجہ سے کے سی آر کا منصوبہ آگے بڑھانے میں مشکلات ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم ابھی تک مجھے موصول نہیں ہوا اور جیسے ہی موصول ہوگا تو اس پر من و عن عمل کیا جائے گا،

انہوں نے کہا کہ مجھے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ سپریم کورٹ نے کے سی آر پر 30 دن میں کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے،کے سی آر کے روٹ پر ابھی تک تجاوزات ہیں اور وفاقی حکومت نے ہمیں کے سی آر کا روٹ (رائٹ آف وے)ابھی تک حوالے نہیں کیا،

وزیر اعلی نے کہا کہ2016 میں انہوں نے کے سی آر کے رائٹ آف وے کی حوالگی کے حوالے سے وزیراعظم کو خط لکھا تھا لیکن اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہوا اور اس کے بعد ہماری ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ، وفاقی وزارت ریلوے سے بھی مسلسل بات چیت کرتی آرہی ہے لیکن ہماری تمام عرضیاں دفتر داخل ہو نہ سکیں،

اور اس وقت تک ہمیں کے سی آر کا رائٹ آف وے نہیں ملا تو کس طرح ہم 30 میں کام کرسکتے ہیں۔ فواد چوہدری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ جب میں یا میری لیڈر شپ کہتی ہے کہ وفاق اپنا کام نہیں کررہا تو فورا وفاقی وزرا کہتے ہیں کہ ہم این آر او مانگ رہے ہیں،

میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ کون ان سے این آر او مانگ رہاہے ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ وفاق ٹیکسس کی وصولی میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے صوبائی حکومتیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کررہی ہیں،

وفاقی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے این آر او کا راگ الاپتی رہتی ہے جو صرف اپنی بر ی کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے، ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ اگر کراچی میں 70 فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں تو یہ تعمیرات 10 سال کے اندر تو نہیں بنی اس کو بڑا عرصہ لگاہوگا،

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ان تمام غیر قانونی تعمیرات کی سروے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان تعمیرات کے مقیم یا استعمال کرنے والوں کے لیے متبادل بندوبست ہوسکے اور بعد میں انہیں منہدم کیا جائے،

وزیراعلی سندھ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ گورنر سندھ سے ان کی اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے گورنر کا کردار آئینی ہے اور اگر گورنر اپنے آئینی حدود کے اندر کام کرتے رہیں گے تو کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا،

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے ٹیکس وصولیات اور عوامی خدمت میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں،

انہوں نے کہا کہ سندھ کی گندم پرندوں نے نہیں کھائی بلکہ شاید چوری ہوئی ہے اس لیے اینٹی کرپشن نے کام شروع کردیا ہے اور اب نیب بھی اس پر کارروائی کررہی ہے،جس نے بھی گندم غائب کی ہوگی اس کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔،

قبل ازیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سنگل ونڈو فیسلیٹی اور ای کنسٹرکٹ۔ آن لائن کنسٹرکشن پرمٹ اپروول سسٹم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے ترقی یافتہ ٹیکنالوجی پر مشتمل یہ جدید ترین نظام اس مقصد کے تحت متعارف کرایا جارہا ہے کہ شہریوں کو تعمیراتی اجازت ناموں کے حصول میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے اور وہ ایک شفاف طریقہ کار کے تحت کم سے کم وقت میں مطلوبہ تقاضوں کی تکمیل کرسکیں،
ا
نہوں نے کہا کہ یہ اہم پیش رفت حکومت سندھ کے اس عزم کی آئینہ دار ہے کہ صوبائی ایڈمنسٹریشن کو ترقی یافتہ خطوط پر منظم کیا جائے اورعوام کو بالخصوص صنعتی و تجارتی شعبوں کو دورجدید کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ صوبے کی ترقی میں اپنا خاطر خواہ کردار ادا کرسکیں۔،

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہماری حکومت نجی شعبے میں مزید اصلاحات اور نئی پالیسیاں متعارف کرائے گی تاکہ نجی شعبوں کے ماحول کو کارساز بنایا جاسکے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ معیشت اور سیاست کے حوالے سے ورلڈ بینک کے ایز آف ڈوئنگ بزنس رپورٹ ایک اہم انڈیکس ہے جس سے سرمایہ کار سرمایہ لگانے کے لیے ملکوں کا انتخاب کرتے ہیں،

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاسی پہلو کے حوالے سے اس سے کسی بھی ملک کی کامیابی اور ناکامی کا صورت حال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے بھی شواہد ہیں جس سے ایف ڈی آئی کا بہاؤ بہت اونچا رہا اور ڈوئنگ بزنس انڈیکس سے معاشی کارکردگی بہتر رہی۔،

مراد علی شاہ نے کہا کہ تقریبا ایک دہائی سے پاکستان نے رینکنگ میں 11پوائنٹس بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سندھ نے بڑا ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کراچی 65 فیصد ویٹ ادا کرتے ہے پورے پاکستان سے، جبکہ لاہور 35 فیصد۔،

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے کاروباری سطح پر بہت سی اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور دیگر محکموں میں ان اصلاحات کو نافذ کیا جاچکا ہے اور ان کو ہدایت کی کہ وہ شہریوں کے فوائد کا ضامن بنیں،

انہوں نے کہا کہ محکموں میں اصلاحات لانے کے حوالے سے ان کے تعاون کے شکرگزار ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ورلڈ بینک ہماری اس حوالے رہنمائی کرے گا کہ ہم اپنے محکموں کو بہتر سے بہتر بنائیں اور محکموں کی صلاحیت کو بڑھائیں،

اس دن کی کامیابی کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ ایس بی سی اے کی طرف سے حاصل کردہ اصلاحات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تعمیراتی پرمٹس تیزی اور بنا کسی پریشانی سے بنائے گئے۔ اس بات کو ذہن نشین کرنا چاہیے کہ پرمٹ حاصل کرنے کا دورانیہ بہت ہی کم تھا،

اب کوئی بھی تعمیراتی اجازت60 دن کے بجائے 30 دنوں میں حاصل کرسکتا ہے،

30 میں سرٹیفکیٹس مل جاتاہے برعکس 45 دنوں کے۔ ایس بی سی اے نے 3 ا این او سیز سے مستثنی اور کنسٹریکشن پرمٹس ملنے کے عمل کو 15 سے 7 دن کیا گیا۔