لاکھڑا کول مائنز میں 6 مزدوروں کی ہلاکت سندھ حکومت ذمہ دار ہے،نظام الدین شاہ

66

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر سید نظام الدین شاہ اور جنرل سیکرٹری شکیل شیخ نے کوٹری کے قریب لاکھڑا کول مائز میں گیس دھماکا اور اس کے نتیجے میں 6 محنت کشوں کی ہلاکتوں پر سخت احتجاج اور افسوس کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ پیر کی شب پی ایم ڈی سی لاکھڑا کول مائز ندیم کول کمپنی کے 6 مزدور کان میں کام کرنے کے لیے گئے۔ جن میں کان کن گل حسن، دائیدنو، محرم علی، تنگیانی، اکبر علی، علی اصغر، رسول بخش شامل تھے۔ اچانک کان میں گیس کا شدید دھماکا ہوا اور کان کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا۔ کان میں آگ لگ جانے کے باعث تمام افراد کے جسم 80 فیصد جل چکے تھے۔ ایک کان کن اللہ بخش اب تک ملبے تلے دبا ہوا ہے اور اسے ملبے سے نکالا نہیں جاسکا ہے۔ تمام افراد کو قریبی اسپتال پہنچایا گیا لیکن 80 فیصد جھلس جانے کے باعث تمام کان کن ہلاک ہوگئے۔ سید نظام الدین شاہ نے لاکھڑا کول مائز میں گیس بم دھماکا اور اس کے نتیجے میں 6 مزدوروں کی ہلاکت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی مالکان نے محنت کشوں کو حفاظتی سامان نہیں دیے تھے۔ جس کے باعث 6 کان کنوںکی ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں۔ تمام ہلاک شدگان محنت کش اپنے گھروں کے کفیل تھے۔ کمپنی مالکان نے محنت کشوں کی سیفٹی کا کوئی بھی انتظام نہیں کیا، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ ان خطرناک جگہ پرکام کرنے والے محنت کشوں کو سیفٹی فراہم نہیں کی جاتی اور غریب محنت کش اپنی جان پر کھیل کر روزگار کما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اس حادثے کا سختی سے نوٹس لیں۔ کمپنی مالکان کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے اور مرحومین کے لواحقین کو دس دس لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے اور سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔ کمپنی خطرناک سائیڈوں پر کام کرنے والے ورکروں کی انشورنس کروائے۔ محکمہ محنت اور حکومتی ادارے کرپشن اور لوٹ مار کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کررہے ہیں۔ غریب محنت کشوں کی جانیں دائو پر لگی ہوئی ہیں۔ محنت کشوں کے قتل میں حکومت سندھ بھی برابر کی ذمے دار ہے۔ لواحقین لاکھڑا کول کمپنی اور ندیم کول کمپنی کے مالکان کے ساتھ ساتھ حکومتی ذمے داران پر بھی قتل کا مقدمہ دائر کریں۔ انہوں نے کہا کہ این ایل ایف غریب کان کنوں کے ساتھ ہے اور ہم ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ظلم وزیادتی برداشت نہیں کریں گے۔