حکمت و احکام رمضان

149

شجاع الدین شیخ
روزے کا ایک بہت بڑا حاصل یہ ہے کہ یہ حلال چیزوں کو بھی چھوڑدینے کی مشق کراتا ہے تاکہ بندہ حرام چیزوں کو چھوڑنے والا بن جائے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جس نے روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولنا اور جھوٹی باتوں پر عمل کرنا تر ک نہ کیا، اللہ کو اس کے بھوکے اور پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ حرام چیزوں کی تعداد کم ہے۔ دیگر امور میں ہر شے حلال ہے۔ آگے فرمایا کہ گنتی کے چند دن ہیں جب روزوں کی فرضیت کا حکم آیا ہے اول اول ایک رائے کے مطابق ہر مہینے کے تین روزے فرض کیے گئے تھے جنہیں ایام بیض کے روزے کہا جاتا ہے، جو ہر قمری مہینے کی 13 تا 15 تاریخوں میں اور ایک دوسری رائے کے مطابق عاشورہ کا روزہ بھی پہلے فرض تھا۔ پورے مہینے کے روزے رمضان المبارک کے مہینے میں فرض کیے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ اللہ تمہارے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے، سختی نہیں چاہتا۔ اللہ نے دین میں آسانیاں رکھی ہیں۔ ایک مقام پرفرمایا گیا کہ اللہ اپنے بندے پر اس کی استطاعت کے مطابق بوجھ ڈالتا ہے۔ سورہ حج میں فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اسی طرح نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ آسانی فراہم کرو، مشکل نہیں۔ ایک مسئلہ بڑا دلچسپ ہے، روزے دار کسی وجہ سے بھول گیا کہ اس نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کچھ کھاپی لیا، جیسے ہی یاد آئے کھانا پینا چھوڑ دے اور اپنے روزے کو مکمل کرلے۔ آگے فرمایا کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو۔ بیماری، سفر یا خواتین کے مخصوص معاملات کی وجہ سے روزے رہ گئے، ان کی گنتی بعد میں پوری کرلو۔ یہ گنتی اس لیے پوری کرائی جارہی ہے تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت یعنی قرآن حکیم پر جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ قرآن اتنی عظیم نعمت ہے کہ اس کے شکرانے کے طور پر پُرمشقت روزے رکھوائے جارہے ہیں۔ پتا چلا کہ رمضان کی فضیلت قرآن کی وجہ سے ہے۔ رمضان کے روزے بھی اللہ کی بڑائی بیان کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کے لیے رکھوائے جارہے ہیں۔
اگلی آیت میں روزے کا ایک بہت بڑا فائدہ اللہ سے قرب حاصل کرنا ہے۔ بخاری شریف میں حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: بندہ جو نیکی بھی کرتا ہے میں اس پر دس گنا سے سات سو گنا تک اجر عطا کرتا ہوں، سوائے روزے کے۔ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر عطا کروں گا۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر ہوں۔ جس کو اللہ ہی مل جائے اسے اور کیا چاہیے۔ کل اللہ ہی فرمادے کہ اے روح مطمئنہ ، لوٹ جا اپنے رب کی طرف میں تجھ سے راضی اور تو مجھ سے راضی، پس داخل ہوجا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔
انسان جسم اور روح کا مرکب ہے۔ ان میں اصل شے روح ہے۔ روح جسم سے نکل جائے تو ہم غسل دیتے ہیں، تکفین وتدفین کرتے ہیں۔ وہ اب ہمارے کسی کام کا نہیں ہوتا۔ جب ہم روزے کی حالت میں اللہ کی رضا کے لیے بھوک اور پیاس سے گزرتے ہیں، تو ہمارا جسم کمزور پڑتا ہے اور روح بیدار ہوتی ہے۔ روزے کی حالت میں جتنا اللہ سے تعلق بڑھتا ہے اس کی مثال کم ہی نظر آتی ہے۔ حج اور عمرے کے دوران میں بھی اللہ سے تعلق بڑھتا ہے لیکن عام حالات میں کم ہوتا ہے۔
فرمایا کہ اور کھائو، پیو… یہاں تک کہ تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے واضح ہوجائے۔ یعنی صبح صادق کا وقت ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو جس کا آغاز غروب آفتاب سے ہوجاتا ہے۔ اور تم ان (عورتوں) سے تعلق قائم نہ کرنا جب تم مسجدوں میں اعتکاف کرنے والے ہو۔ رسول اللہؐ نے کم وبیش ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا ہے۔ احناف کے ہاں خواتین کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کی گنجائش ہے۔ آگے فرمایا کہ یہ اللہ کی حدود ہیں، ان کے قریب بھی نہ جائو۔ بہت قیمتی اور پیارے الفاظ ہیں۔ حدود کا لفظ آئے تو لوگوں کے خیال میں سزائیں آجاتی ہیں۔ وہ بھی درست ہے مگر یہ لفظ احکامات یعنی اوامر ونواہی کے لیے بھی آتا ہے۔ ہمارے دین کا مزاج یہ ہے کہ حرام تو بڑی بات ہے، جس شے پر حرام ہونا کا شبہہ بھی ہو تو اس سے بچنا چاہیے۔ آگے فرمایا کہ اسی طرح اللہ اپنی آیات کو لوگوںکے لیے واضح فرماتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ تقویٰ دلوں میں پیدا ہو رہا ہے یا نہیں… اس کا اظہار بندے کا اپنے آپ کو حرام سے بچانا ہے۔ نیکی میں آگے بڑھنا ضروری ہے لیکن گناہوں سے بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ اور آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے پر مت کھائو اور انہیں حُکام تک نہ پہنچائو کہ تم جانتے بوجھتے گناہ کرکے لوگوں کے مال میں سے کچھ حصہ ہڑپ نہ کرجائو۔ تقویٰ ظاہری حُلیے سے پتا چلے، یہ ضروری نہیں۔ یہ محض عبادات و رسومات کی ادائیگی سے ظاہر نہیں ہوگا۔ اس کا پتا لوگوں کے ساتھ معاملات سے چلتا ہے۔