افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

123

رمضان میں فیاضی
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ کا طریقہ یہ تھا کہ جب رمضان آتا تو آپؐ ہر قیدی کو رہا کر دیتے تھے اور ہر سائل کو کچھ نہ کچھ دیتے تھے۔ (بیہقی)
رسول اللہؐ کی شفقت، رحم دلی، نرمی، عطا، بخشش اور فیاضی کا جو حال عام دنوں میں تھا وہ تو تھا ہی، کہ یہ چیزیں آپؐ کے اخلاقِ کریمانہ کا حصہ تھیں، لیکن رمضان المبارک میں خاص طور پر ان میں اضافہ ہوجاتا تھا۔ اس زمانے میں چونکہ آپؐ معمول سے کہیں زیادہ گہرائی سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے اور اللہ کے ساتھ آپؐ کی محبت میں شدت آجاتی تھی، اس لیے آپؐ کی نیکیاں بھی عام دنوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ بڑھ جاتی تھیں۔ جیسا کہ خود نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ عام دنوں میں فرض ادا کرنے کا جو ثواب ملتا ہے، وہ رمضان میں نفل ادا کرنے پر ملتا ہے۔ اس لیے آپؐ رمضان کے زمانے میں کثرت سے نیکیاں کرتے تھے۔ یہاں نبی اکرمؐ کے عمل میں دو چیزیں مثال کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔ اسیروں کو رہا کرنا اور مانگنے والوں کو دینا۔
٭…٭…٭
روزہ اور قرآن
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ کہتا ہے کہ اے رب! میں نے اس کو دن بھر کھانے (پینے) اور شہوات سے روکے رکھا، تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما، اور قرآن کہتا ہے کہ (اے رب!) میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، پس دونوں کی شفاعت قبول فرما لی جائے گی۔ (بیہقی)
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ روزہ اور قرآن کوئی جان دار ہیں، جو کھڑے ہوکر یہ بات کہتے ہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک روزے دار کا روزہ رکھنا اور قرآن پڑھنے والے کا قرآن پڑھنا دراصل خود اپنے اندر ایک شفاعت رکھتا ہے۔ جب روزے دار اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ اس بندے نے روزہ رکھا تو اس پیشی کے ساتھ ساتھ روزے کی یہ شفاعت بھی موجود ہوتی ہے کہ یہ بندہ آپ کی خاطر دن بھر بھوکا پیاسا رہا۔ یہ چھپ کر کھا پی سکتا تھا اور دوسری خواہشات بھی پوری کرسکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس بندے نے چونکہ آپ کی خاطر دن بھر بھوک پیاس برداشت کی ہے اور اپنی دوسری خواہشات پر بھی پابندیاں عائد کیے رکھی ہیں، اس لیے اس کے قصور معاف فرما دیجیے۔ اسی طرح ایک شخص رات کو جو قرآن مجید پڑھتا ہے، جب وہ قرآن اللہ کے حضور پیش کیا جاتا ہے کہ آج اس بندے نے اتنا قرآن پڑھا ہے تو قرآن کا وہ پیش کیا جانا ہی خود اپنے اندر ایک شفاعت رکھتا ہے، اور وہ شفاعت یہ ہے کہ اس بندے نے دن بھر کے روزے سے تھکا ماندہ ہونے کے باوجود آپ کی رضاجوئی کی خاطر رات کو (نماز میں) کھڑے ہوکر قرآن پڑھا، اس لیے اس کے گناہ معاف کردیے جائیں۔
٭…٭…٭
دوزخ سے رہائی
نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اور یہ وہ مہینہ ہے جس کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے۔‘‘ (البیھقی) گویا ادھر اس مبارک مہینے کی آمد پر آپ روزہ رکھنا شروع کرتے ہیں ادھر اللہ کی رحمت آپ پر سایہ فگن ہوجاتی ہے۔ پھر رمضان کے وسط تک پہنچتے پہنچتے اللہ تعالیٰ آپ کے قصوروں سے درگزر فرما لیتا ہے اور آپ کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ اس طرح جب آپ رمضان کے آخر تک پہنچتے ہیں تو ادھر آپ آخری روزہ رکھتے ہیں، ادھر آپ کو دوزخ کے خطرے سے آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ (کتاب الصوم)