روزے کی جسمانی افادیت ڈاکٹر محمد سلطان شاہ

154

نبی کریمؐ کا ارشاد گرامی ہے: ’’ہر شے کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے‘‘۔ (المعجم الکبیر) اس حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح زکوٰۃ مال کو پاک کردیتی ہے، اسی طرح روزہ جسم کی زکوٰۃ ہے اور اس کے ادا کرنے سے جسم تمام بیماریوں سے پاک ہوجاتا ہے، بلکہ کذب، غیبت، حسد اور بْغض جیسی باطنی بیماریوں سے بھی نجات مل جاتی ہے۔
روزہ اور نظامِ انھضام
نظامِ انہضام (system Digestive) مختلف اعضاء پر مشتمل ہے جن میں ایلیمنٹری کینال اور ہاضمے کے غدود شامل ہیں۔ ایلیمنٹری کینال منہ سے شروع ہوکر مقعد پر اختتام پذیر ہوتی ہیں۔ اس میں جوف دہن، ایسوفیگس، معدہ اور آنتیں شامل ہیں۔ جگر اور لبلبہ ہاضمے کے غدود ہیں جن کی رطوبتیں خوراک میں شامل ہوکر اس کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو پورا نظامِ انہضام اس کو ہضم کرنے میں لگ جاتا ہے۔
انسان کو آرام کی بہت ضرورت ہے اور نیند اس کا بڑا ذریعہ ہے لیکن سونے کی حالت میں بھی بہت سے جسمانی افعال رواں دواں رہتے ہیں، مثلاً دل، پھیپھڑے، نظامِ ہضم میں معدہ، آنتیں، جگر، بہت سے ہارمون اور رطوبت، گردہ وغیرہ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سب نظام ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں اور خوراک ان کی محرک ہے۔ اگر ہم اپنے روزمرہ معمولات کا بغور مطالعہ کریں تو ظاہر ہوگا کہ جسم کے ان شعبوں کو بہت کم آرام ملتا ہے۔ رات کے کھانے کو ہضم کرتے کرتے صبح کے ناشتے کا وقت ہوجاتا ہے اور جو لوگ دیر سے سوتے ہیں وہ رات کے کھانے کے بعد کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ (محمد عالم گیر خان، ڈاکٹر، اسلام اور طبِ جدید) روزے سے معدہ، آنتوں، جگر اور گردوں کو آرام کا موقع ملتا ہے اور سال کے دوران ایک ماہ کا آرام ان کی کارکردگی میں خاطرخواہ بہتری کا موجب بنتا ہے۔ (محمد فاروق کمال، سیرتِ محمدؐ)
ڈاکٹر ہلوک نور باقی نے نظامِ انہضام پر روزے کے اثرات کا تفصیل سے مطالعہ کیا ہے، جس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے: روزے کا حیران کن اثر خاص طور پر جگر پر ہوتا ہے، کیونکہ جگر کے کھانا ہضم کرنے کے علاوہ مزید افعال بھی ہوتے ہیں۔ یہ اس طرح تھکان کا شکار ہوجاتا ہے، جیسے ایک چوکیدار ساری عمر کے لیے پہرے پر کھڑا ہو۔ روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھے گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے۔ یہ روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے۔ جگر پر روزے کی برکات کا مفید اثر پڑتا ہے، جیسے جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا ہے جو غیرہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے مابین ہوتا ہے۔ اسے یا تو ہر لقمے کو اسٹور میں رکھنا ہوتا ہے یا پھر خون کے ذریعے اس کو ہضم ہوکر تحلیل ہوجانے کے عمل کی نگرانی کرنا پڑتی ہے۔ روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہوجاتا ہے اور اپنی توانائی پیدا کرنے پر صَرف کرتا ہے، جو جسم کے مدافعاتی نظام کی تقویت کا باعث ہے۔
انسانی معدے پر روزے کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ روزے سے معدے سے خارج ہونے والے گیس کی پیداوار اور اخراج میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ روزے کے دوران تیزابیت نہیں ہوتی کیونکہ گیسٹرک جوس خارج نہیں ہوتا جس میں موجود ہائیڈرو کلورک ایسڈ تیزابیت کا باعث بنتا ہے۔ روزہ آنتوں کو بھی آرام فراہم کرتا ہے۔