۔1857ء کا نعرہ … انگریز کو ہندوستان سے نکال دو

168

جنگ آزادی کا نعرہ “انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دو” تھا، اس لیے اس میں تمام ایسے عناصر شامل ہو گئے جن کو انگریز حکومت سے نقصان پہنچا تھا۔ متضاد عناصر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف یکجا تو ہوئے تھے لیکن وطنیت اور قومیت کے تصورات سے ناآشنا تھے۔ بہادر شاہ ظفر جس کی بادشاہت کا اعلان باغی سپاہیوں نے کر دیا تھا۔ نہ بادشاہت کی صلاحیت رکھتا تھا اور نہ باغیوں کی مخالفت کرنے کی طاقت۔
فتویٰ جہاد
علامہ فضل حق خیر آبادی اور ان کے ساتھی مفتی صدر الدین خان آزردہ، سید کفایت علی کافی اور دیگر بہت سے مسلمان علما نے دہلی کی جامع مسجد سے بیک وقت انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا جس کے نتیجے میں مسلمان اس جنگ کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے لڑے۔
علامہ فضل حق 1797ء کو خیرآباد کے علاقے میں پیدا ہوئے، اعلیٰ تعلیم حاصل کی ،منطق وفلسفہ کی دنیا میں اتھاریٹی تسلیم کیے گئے،تصانیف چھوڑ یں ،بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہندوستان کو انگریزوں کے پنجہ ناپاک سے آزاد کرانے کی جان توڑ محنت کی ،عشق ومحبت رسول پر کتابیں لکھیں ،قوانین سازی کی۔ فضل حق خیر آبادی لکھنؤ میں ایک قاضی القضاء تھے۔ انگریزوں کے جاسوس گوری شنکر نے 28 اگست 1857ء کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ: “مولوی فضلِ حق جب سے دہلی آیا ہے،شہریوں اور فوج کو انگریزوں کے خلاف اْکسانے میں مصروف ہے۔ وہ کہتا پھرتا ہے کہ اس نے آگرہ گزٹ میں برطانوی پارلیمنٹ کا ایک اعلان پڑھا ہے جس میں انگریزی فوج کو دہلی کے تمام باشندوں کو قتل کردینے اور پورے شہر کو مسمارکردینے کے لیے کہا گیا ہے۔ آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کے لیے کہ یہاں دہلی کا شہر آباد تھا،شاہی مسجد کا صرف ایک مینار باقی چھوڑا جائے گا”۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے جنگ آزادی میں انگریزوں کے عزائم بھانپ لیے تھے۔ جامع مسجد دہلی میں نماز جمعہ کے بعد علما کے سامنے تقریر کی اور اِستِفتاء￿ پیش کیا۔ جس میں انگریز کے خلاف جہاد کے لیے کہا گیا تھا۔ جہاد کے اس فتوے پر مفتی صدرالدین خان، مولوی عبد القادر، قاضی فیض اللہ، مولانا فیض احمد بدایونی، وزیر خان اکبر آبادی، سید مبارک حسین رامپوری نے دستخط کیے۔ اس فتوے کے جاری ہوتے ہی ہندوستان بھر میں قتال و جدال شروع ہو گیا۔ اْن علما کو اس فتوے کے نتائج و عواقب کا ادراک تھا۔ علامہ فضل حق خیر آبادی کا جہاد کا فتویٰ جاری کرنا تھا کہ ہندوستان بھر میں انگریز کے خلاف ایک بہت بڑی عظیم لہر دوڑگئی اور گلی گلی، قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، بستی بستی، شہر شہر وہ قتال وہ جدال ہوا کہ انگریزحکومت کی چولیں ہل گئیں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ انگریز بڑا مکار اور خبیث ہے اس نے اپنی تدبیر یں لڑا کر بڑے بڑے لوگوں کو خرید کر اور ڈرا دھمکا کر بے شمار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اس نے تحریک کو کْچل دیا۔ آزادی کی تحریک کوکْچل تودیا مگر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی نے آزادی کا سنگ بنیادرکھ دیا تھا اس کو بظاہر انگریز نے وقتی طور پر کْچل دیا۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہونے کے بعد کسی طرح یہاں سے نکل کرعلامہ فضلِ حق اودھ پہنچے۔ جنوری 1859ء میں آپ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور کالاپانی کی سزا ہوئی۔ آپ نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور عدالت میں کہا کہ: “جہاد کا فتویٰ میرا لکھا ہوا ہے اور میں آج بھی اپنے اس فتویٰ پر قائم ہوں”۔ 1857ء کی جنگ آزادی ناکام ہونے کے بعد ان کو انگریز نے قید کر دیا۔ جب ان کا بیٹا عبد الحق خیر آبادی انہیں آزاد کروانے کے لییپورٹ بلیئر پر 13 فروری 1861ء کو پہنچا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی – فضل حق خیر آبادی کو پہلے ہی 12 فروری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔
پھانسی کا ایک منظر
دہلی کی فتح کے بعد انگریز فوجوں نے شہری آبادی سے خوف ناک انتقام لیا۔ لوگوں کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ سینکڑوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ ہزاروں نفوس گولیوں سے اڑا دیے گئے۔ ان میں مجرم بھی تھے اور بے گناہ بھی۔ مسلمان بھی تلوار کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اور ہندو بھی۔ لیکن جلد ہی انگریزی فوج کے سکھ سپاہیوں نے قتل و غارت میں فرقہ وارانہ رنگ بھر دیا۔ مسلمان چن چن کر قتل کیے گئے۔ بہت سے مقتدر اور متمول مسلمانوں کی جائدادیں تباہ ہو گئیں۔ اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے۔ ان ہولناک مظالم کا اعادہ ان مقامات پر بھی کیا گیا جہاں اولا جنگ کی آگ بھڑکی تھی۔
اگست 1858ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے اعلان ملکہ وکٹوریہ کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے ہندوستان کو تاج برطانیہ کے سپرد کر دیا۔
اس جنگ کے بعد خصوصاً مسلمان زیر عتاب آئے۔ جب کہ ہندوؤں نے مکمل طور پر انگریز سے مفاہمت کر لی۔ یوں مسلمانوں پر جدید علم کے دروازے بند کر دیے گئے۔ اور خود مسلمان بھی نئی دنیا سے دور ہوتے چلے گئے۔ ایسے میں سرسید جیسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے اس جنگ آزادی کے وجوہات پر روشنی ڈالی اور انگریزوں پر زور دیا کہ ہندوستانیوں میں موجود احساس محرومی کو دور کرکے ہی انگریز یہاں حکومت کر سکتا ہے۔ سرسید نے کالج اور یونیورسٹیاں قائم کیں۔
اس جنگ آزادی میں ہندو اور مسلمان مل کر ہندوستان کے لیے لڑے لیکن اس کے بعد انگریز کی سازش اور کچھ ہندوؤں کے رویے کی وجہ سے مسلمان اور ہندو الگ الگ قوموں کی صورت میں بٹ گئے۔ یوں پہلی مرتبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پڑی۔