ایچ ای سی کا افسوسناک اقدام:سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید طالبعلم اشتہاری قرار،نوٹس بھجوا دیا

222

اسلام آباد: ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کرائسٹ چرچ سانحے میں شہید ہونے والے پاکستانی طالب علم ہارون محمد کو اشتہاری قرار دے کر رقم ریکوری کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔ نوٹس میں شہید طالبعلم ہارون محمد کو 3 کروڑ 67 لاکھ 8 سو 22 روپے فوری جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایچ ای سی کے خط میں شہید طالبعلم کے لیے ’’اشتہاری‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15مارچ کو دہشت گردوں کے مساجد پر حملے میں 50مسلمان شہید ہوئے جن میں پاکستانی طالبعلم ہارون محمد بھی شامل تھا، مذکورہ طالبعلم ایچ ای سی کے اسکالر شپ پر نیوزی لینڈ میں ایم بی اے کی تعلیم حاصل کررہا تھا۔ شہادت کے بعد نیوزی لینڈ اور پاکستان کی حکومتوں نے شہید کو اعزازات سے بھی نوازا تھا۔

 

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیٹر کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹرجی نائن کے رہائشی ہارون محمد کو نوٹس بھجوایا گیا ہے کہ آپ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو 36700,822روپے ڈی جی فنانس کے نام پے آرڈر کی صورت میں جمع کرائیں بصورت دیگر آپ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

شہید کی فیملی کے مطابق ہائیر ایجوکیشن میں تعینات خاتون آفیسر جو پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں کو بتایا گیا تھا کہ ہارون محمود سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید ہوچکے ہیں۔

مذکورہ خاتون افسر کو نیوزی لینڈ حکومت کی طرف سے جاری کردہ شہدا کی لسٹ بھی فراہم کی گئی لیکن اس نے ان لسٹ کو ماننے سے انکار کردیا،اور اصرار کیا کہ نیوزی لینڈ کی حکومت کی طرف سے ان کے لیے علیحدہ ذاتی طور پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو لیٹر جاری کروایا جائے، ایچ ای سی، ای میل کو نہیں مانے گا۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ترجمان عائشہ اکرام نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مذکورہ طالبعلم اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد بھی بیرون ملک مقیم تھا تاہم اب اس کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ لگا کر فائل کو بند کر دیا جائے گا۔