‘عافیہ صدیقی خود پاکستان نہیں آنا چاہتیں’

125

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے پہلوؤں کو دیکھ رہی ہے لیکن ان کی اطلاعات کے مطابق وہ خود پاکستان نہیں آنا چاہتی ہیں۔

بین الا قوامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کاکہنا تھا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی مستقبل میں ملاقات ہوئی تو عافیہ صدیقی اور شکیل آفریدی کے تبادلے پر بات ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ اور ڈاکٹر شکیل کا کچھ ہو تو ہو، ویسے میری اطلاعات کے مطابق وہ خود پاکستان نہیں آنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں گذشتہ برس ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر کے امریکا سے اس معاملے کو اٹھانے کے درخواست بھی کی تھی۔

وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے ممکنہ طریقے پر غور کر رہے ہیں۔ ہیوسٹن میں موجود قونصلر جنرل عائشہ فاروقی نے بعد میں وزیر خارجہ کی ہدایت پر ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات بھی کی تھی۔

‘کسی کا ایسا کہنا کہ عافیہ خود پاکستان نہیں آنا چاہتیں بے بنیاد ہے’

اس حوالے سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ عافیہ خود پاکستان آنا نہیں چاہتیں تو یہ مکمل طور پر بے بنیاد بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ ہیوسٹن میں موجود قونصل خانے کے حکام نے عافیہ سے ملاقات کی تھی۔

ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ ایک وقت ایسا آیا کہ لگا عافیہ کسی بھی لمحے پاکستان آنے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکا سے بات چیت جاری ہے اور جنوری سے مارچ کے دوران کوئی خوشخبری ملے گی لیکن اب پھر خاموشی چھا گئی ہے۔

‘عافیہ نے مجھ سے فون پر کہا کہ وہ ہر قسم کے دستاویز پر دستخط کرنے کیلئے تیار ہیں بس ان کو کسی طرح جیل سے نکا لا جائے۔