نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے بارے میں تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے۔ احمد حسن مغل

215

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ موجودہ حکومت ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کی غرض سے ایک نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم متعارف کرانا چاہتی ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایمنسٹی سکیم کے بارے میں ملک کی تاجر برادری کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائے تاکہ سب کی مشاورت سے ایک ایسی متفقہ ایمنسٹی متعارف کرائی جائے جو خفیہ اثاثوں اور دولت کو دستاویزی معیشت میں لانے اور ٹیکس کے دائرہ کار کوبڑھانے میں موثر اور کامیاب ثابت ہو ۔
احمد حسن مغل نے کہا کہ 1958سے لے کر 2018تک پاکستان میں کئی ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں جاری گی گئی لیکن وہ ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے اور ملک کے ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ حکومتوں نے ان سکیموں کے بارے میں سٹیک ہولڈرز سے جامع مشاورت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ 1958میں جو ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری کی گئی تھی اس سے حکومت کو صرف1.12روپے وصول ہوئے جبکہ 1968میں 92کروڑ ، 1976میں 1.5ارب، 2000میں 10ارب روپے، 2008میں 3.16ارب روپے اور 2018میں تقریبا 120ارب روپے وصول ہوئے ۔ اس کے علاوہ 1985،1991،1998،2012اور 2016میں بھی ایمنسٹی سکیمیں پیش کی گئیں جن کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں کہ ان سے کتنا ریونیو حکومت کو حاصل ہوا۔ اس کے برعکس انڈونیشیا نے 2016میں جو ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری کی تھی اس سے تقریبا745000لوگ ٹیکس نیٹ میں آئے تھے جبکہ حکومت کو 330ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے ظاہر کئے گئے تھے۔
احمد حسن مغل نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری نہیں دی جبکہ سننے میں آ رہا ہے کہ یہ سکیم اگر جاری کی گئی تو 30جون 2019تک ہو گی جس سے ظاہر ہے کہ یہ سکیم بہت مختصر مدت کیلئے جاری کی جائے گی جو شاید معیشت کیلئے زیادہ فائدہ مند ثابت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا نے جو ایمنسٹی سکیم اپنے شہریوں کیلئے جاری کی تھی وہ 9ماہ کیلئے تھی جس وجہ سے وہ کافی کامیاب ثابت ہوئی تھی۔ لہذا انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اگر وہ ایمنسٹی سکیم لانا چاہتی ہے تو اس کیلئے کم از کام 6سے9ماہ کا وقت دیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ حاصل کر سکیں جس سے ٹیکس کی بنیاد وسیع ہو گی اور حکومت کے ٹیکس ریونیو میں بھی بہتر اضافہ ہو گا۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر نئی ایمنسٹی سکیم لانی ہے تو اس کو مختصر مدت کیلئے لانے کی بجائے کم از کم چھ ماہ کیلئے جاری کیا جائے تا کہ جو شہری اس سے استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی تیاری کر کے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

mm
قاضی جاوید سینئر کامرس رپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com