سری لنکا دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 300، ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان

98

 سری لنکا میں مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر ہونے والے 8 بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 300 ہوگئی ہے، سیکیورٹی اداروں کو ان دھماکوں میں انٹرنیشنل نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں گزشتہ روز ہونے والے 8 بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہوگئی ہے اور 500 افراد زخمی ہیں۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ یہ بم دھماکے 3 چرچوں اور 3 ہوٹلوں پر کیے گئے جب کہ ایک ایک دھماکا دوسرے مقامات پر ہوئے۔

ملک میں ایک بار پھر کرفیو نافذ کردیا ہے جو رات 8 بجے تک جاری رہے گا، وزیر صحت اور کابینہ کے ترجمان نے بم حملوں میں ’انٹرنیشنل نیٹ ورک‘ کے ملوث ہونے کے شواہد ملنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام خود کش بمبار سری لنکا کے شہری ہی تھے۔ تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

ہلاک شدگان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں جن میں سے 5 برطانوی، 2 امریکی، 6 بھارتی، ڈنمارک کے 3 اور پرتگال کا ایک شہری شامل ہے۔ ملک کے اسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں۔ ہر طرف سوگ کا سماں ہے اور ہر آنکھ اشک بار ہے۔

حکومت نے آج صبح کرفیو ختم کردیا ہے اور سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 24 مشتبہ ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ اتوار کی شب بھی کولمبو ایئرپورٹ کے قریب بم برآمد ہوا جسے ناکارہ بنادیا گیا ہے۔