شادی میں والدین کی رضامندی

85

 

رضی الاسلام ندوی

والدین پر اولاد کے جو حقوق شریعت نے عائد کیے ہیں وہ یہ ہیں کہ والدین ان کی اچھی طرح پرورش و پرداخت کریں، انہیں تعلیم وتربیت سے آراستہ کریں اور جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح کرنے میں جلدی کریں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے لڑکیوں کے سرپر ستوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا :
’’جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام آئے جس کا دین واخلاق تمہارے نزدیک پسندیدہ ہو تو اس سے ( اپنی لڑکی کا ) نکاح کردو۔ اگر تم ایسا نہ کروگے تو فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوجائے گا‘‘۔ (ترمذی)
والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد (لڑکا یا لڑکی) کا اچھے سے اچھا رشتہ کریں، اسی لیے وہ حتی الامکان خوب تلاش وتحقیق کے بعد اور چھان پھٹک کرکوئی رشتہ طے کرتے ہیں، لیکن تنازعہ اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب والدین اور اولاد کی پسند وناپسند میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ والدین جو رشتہ پسند کرتے ہیں وہ کسی وجہ سے ان کے لڑکے یا لڑکی کو پسند نہیں آتا اور لڑکا یا لڑکی اپنے والدین کے سامنے اپنی پسند کے کسی رشتے کو نشان دہی کرتے ہیں تو وہ والدین کی نگاہوں میں نہیں جچتا، چنانچہ وہ اسے اپنی منظوری نہیں دیتے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ رشتے کرنے کے سلسلے میں والدین اور اولاد کی پسند و ناپسند میں ٹکراؤ ہو اور موافقت کی کوئی صورت نہ نکل رہی ہو تو کس کی رائے کو ترجیح حاصل ہوگی ؟
امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اگر لڑکا یا لڑکی بالغ ہے تو وہ اپنی مرضی سے اپنا نکاح کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے ولی کی اجازت ضروری نہیں ہے۔ مولانا مجیب اللہ ندویؒ نے امام ابوحنیفہ ؒ کے مسلک کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’بالغ لڑکے اور لڑکیوں کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ جس معقول مسلمان لڑکی یا لڑکے سے چاہیں، نکاح کرلیں۔ ولی کی اجازت کی ان کو ضرورت نہیں ہے، خواہ ولی اس رشتے کو پسند کریں یا نہ کریں۔ یہ امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ اسی کو تمام فقہائے احناف نے اختیار کیا ہے‘‘۔
(اسلامی فقہ)
دیگر ائمہ کے نزدیک بغیر ولی کی اجازت کے نکاح جائز نہیں ہے۔ یہ حضرات بھی بعض آیات قرآن اور احادیث نبوی کو دلیل میں پیش کرتے ہیں۔
علامہ ابن رشدؒ نے حقِ ولایت کے موضوع پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہر فریق نے جودلائل دیے ہیں وہ اس کے حق میں صریح نہیں ہیں، بلکہ ان میں مفہومِ مخالف کا بھی احتمال ہے۔ (بدایۃ المجتہد) ان دلائل میں بظاہر تضاد محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ تضاد ایسا نہیں ہے کہ اسے دور نہ کیا جاسکے، بلکہ اِن میں بآسانی تطبیق دی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک توجیہ یہ کی جاسکتی ہے کہ قانونی طور پر تو بالغ لڑکا یا لڑکی اپنی پسند وناپسندکے معاملے میں خود مختار ہیں، البتہ اخلاقی اور سماجی طور پر انہیں والدین یا اولیا کی مرضی کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اس لیے کہ والدین دنیا دیکھے ہوئے ہوتے ہیں، انہیں زمانے کے سرد وگرم کا بخوبی علم ہوتا ہے، وہ تجربے کار ہوتے ہیں، ساتھ ہی وہ اپنی اولاد کے سلسلے میں مخلص ہوتے ہیں، وہ جوکچھ رائے قائم کرتے ہیں اس کے پس پردہ اخلاص کارفرما ہوتا ہے، جب کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پرعموماً جذباتیت غالب ہوتی ہے۔ اس لیے دانش مندی کا تقاضا ہے کہ تنازع ہونے کی صورت میں نوجوان اپنی پسند وناپسند پر اصرار نہ کریں، بلکہ والدین کی رائے کو ترجیح دیں اور اس پر سر تسلیم خم کردیں۔