نبی اکرم ﷺ کی رضاعی مائیں

155

 

مفتی محمد عارف باللہ

نبی کریم محمد مصطفیؐ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی، ولادت کے بعد ابتدائی ایام میں آپ کو آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ بنت وہب نے ہی دودھ پلایا، مؤرخین اور سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپؐ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو سات دن تک دودھ پلایا۔ (سبل الہدی والرشاد) مولانا ادریس کاندھلوی لکھتے ہیں کہ ولادت باسعادت کے بعد تین چار روز تک آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو دودھ پلایا۔ (سیرۃ المصطفی) سیرت حلبیہ میں ہے کہ آپؐ کو آپ کی والدہ ماجدہ نے نو دن تک دودھ پلایا۔
1۔ثْوَیبَہ اَسلَمِیَّہ
والدہ ماجدہ کے بعد سیدہ حلیمہ سعدیہ کے پاس جانے سے پہلے آپؐ کو آپ کے چچا ابولہب کی باندی سیدہ ثویبہ نے دودھ پلایا، جس وقت آپؐ نے دودوھ پیا اس وقت وہ آزاد ہوچکی تھیں؛ کیونکہ ابولہب کو بھتیجے کی ولادت کی خبر ثویبہ نے جس وقت دی تھی اسی وقت ابولہب نے ان کو آزاد کردیا تھا، اس کا صلہ ابولہب کو بھی ملا کہ اسے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں تھوڑا سا پانی نصیب ہوگیا۔(بخاری)
ثویبہ نے آپؐ کو اپنے بیٹے مسروح کے ساتھ تقریبا چار ماہ دودھ پلایا، ان ہی ایام میں ثویبہ نے آپؐ کے چچا حمزہ بن عبدالمطلب اور ابوسلمہ عبداللہ بن عبد الاسد مخزومی کو بھی دودھ پلایا اس طرح یہ نبی اکرمؐ کے رضاعی بھائی ہوئے۔ (زاد المعاد)
ثویبہ کے اسلام قبول کرنے کے سلسلے میں سیرت نگاروں اور مؤرخین میں اختلاف ہے، بہت سے حضرات ان کے مسلمان ہونے کے قائل نہیں ہیں، ابونعیم اصفہائی نے حلیۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ میرے علم کے مطابق متقدمین میں سے کسی نے ان کے اسلام کا ذکر نہیں کیا ہے۔ علامہ قرطبی نے بھی لکھا ہے کہ انہوں نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا۔ (الاستیعاب) جبکہ ابن سید الناس کہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا، البتہ عام مہاجرین کے ساتھ انہوں نے ہجرت نہیں کی۔
نبی اکرمؐ ہجرت کے بعد مکہ آنے جانے والوں کے ذریعے ان کی خدمت میں تحفے اور کپڑے بھیجا کرتے تھے، 7ہجری میں خیبر سے واپسی کے موقع پر آپؐ کو ان کی وفات کی خبر موصول ہوئی، آپ نے اس موقع پر ان کے بیٹے مسروح کے بارے میں بھی پوچھا کہ ان کا کیا حال ہے تو آپ کو یہ بتایا گیا کہ مسروح کا ثویبہ سے پہلے انتقال ہوچکا ہے اور اب ان کا کوئی عزیز دنیا میں نہیں ہے۔ (الطبقات الکبری)
2۔حلیمہ سعدیہ
عرب میں دستور تھا کہ شرفا اپنے شیرخوار بچوں کو ابتدا ہی سے دیہات میں بھیج دیتے تھے تاکہ وہ دیہات کی صاف وشفاف آب وہوا میں اور شہر کی مخلوط تہذیب وزبان سے دور خالص عربی تہذیب میں نشو ونما پائیں اور پروان چڑھیں، تاکہ ان کی زبان فصیح ہو اور خالص عربی تمدن وخصوصیات سے آراستہ ہوں۔ ایک مرتبہ خود نبی اکرمؐ نے اپنی زبان کی فصاحت کی وجہ یہی بتائی کہ آپؐ قریش میں پیدا ہوئے اور بنوسعد میں آپ کی پرورش ہوئی۔(سیرۃ المصطفی)
عرب میں جاری اسی دستور کے مطابق بنوسعد کی عورتیں شیرخوار بچوں کو مکہ آکر تلاش کرتیں اور مخصوص اجرت ومعاوضہ حاصل کرنے کے غرض سے انہیں لے کر جاتیں، جس سال نبی اکرمؐ کی ولادت باسعاد ہوئی تو بنوسعد کی خواتین بھی مکہ آئیں جن میں سیدہ حلیمہ سعدیہ بھی شامل تھیں۔ تمام خواتین نے آپؐ کے گھر کی خستہ حالی اور آپ کی یتیمی کو دیکھ انکارکردیا تو حلیمہ سعدیہ نے اللہ سے برکت کی امید لگاکر اس یتیم کو لے لیا، جو درحقیقت یتیم نہیں بلکہ دریتیم تھے۔ اس مولود کے مبارک ہونے کا احساس حلیمہ اور ان شوہرکو اسی وقت سے ہونا شروع ہوگیا جس وقت انہوں نے ان کو گود لیا۔ چنانچہ اگلے دن ہی ان کے شوہر نے اپنے احساسات کا ان الفاظ میں اظہار کیا:
’’اے حلیمہ! خدا کی قسم تم نے بہت ہی مبارک بچہ لیا ہے۔‘‘ (عیون الاثر)
حلیمہ قبیلہ ہوازن کی شاخ بنو سعد سے تعلق رکھتی تھیں، ان کے شوہر حارث بن عبد العزی بھی اسی قبیلے کے تھے۔
حلیمہ سعدیہ کو ایک بیٹا عبداللہ اور دو بیٹیاں انیسہ اور حذافہ تھیں، حذافہ شیماء کے نام سے مشہور تھیں۔ آپؐ کے ان رضاعی بھائی بہنوں میں سے عبداللہ اور حذافہ (شیماء) مشرف بہ اسلام ہوئے، بلکہ شیما تو ایسی بہادر خاتون تھیں جنہوں نے اپنے قبیلے کے ارتداد کے فتنے کا مقابلہ کیا اور فتنہ ختم ہونے تک اسلام کا دفاع کیا۔
دوسری رضاعی بہن انیسہ کے بارے میں بھی علامہ ابن حجر عقسلانی نے لکھا ہے کہ وہ مشرف بہ اسلام ہوئیں، سیرت حلبیہ میں بھی اسی کو نقل کیا گیا ہے۔ (سیرت حلبیہ)
حلیمہ سعدیہؓ نے آپؐ کو دو سال تک دودھ پلایا، مدت رضاعت مکمل ہونے پر دودھ چھڑا کرحسب معاہدہ آپ کو مکہ لے کر تو آگئیں، لیکن ان کی تمنا تھی کہ اس مبارک مولود کو کچھ دن مزید رکھنے کی سعادت مل جائے، ادھر جب مکہ پہنچیں تو معلوم ہوا کہ مکہ میں وبا پھیلی ہوئی ہے تو ان کی گزارش پر آپ کی والدہ اور دادا نے ان کی درخواست قبول کرنا ہی بہتر سمجھا، اس طرح آپ دوبارہ حلیمہ کے پاس ہی رہے، اور چار سال کی عمر تک آپ ان کے پاس ہی رہے، چار سال کی عمر میں جب پہلی بار شق صدر کا واقعہ پیش آیا تو حلیمہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی حادثہ نہ ہوجائے اس لیے آپ کو والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ کے پاس لے کر آگئیں۔
جب نبی اکرمؐ کی شادی سیدہ خدیجہؓ سے ہوچکی تھی اس وقت حلیمہ دوبارہ مکہ آئیں اور آپؐ سے اپنے علاقے کی قحط کا تذکرہ کیا، آپؐ نے خدیجہؓ سے ان کے بارے میں بات کرکے ان کو مدد کی ترغیب دی، جس پر خدیجہ نے انہیں چالیس بکریاں دیں۔
آپؐ کے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد ایک بار اپنے شوہر کے ساتھ بھی مکہ آئیں اور اس سفر میں دونوں مشرف بہ اسلام ہوئے۔
غزوہ حنین کے موقع پر آپؐ صحابہ کرام کے ساتھ جعرانہ میں موجود تھے، صحابہ کرامؓ نے دیکھا کہ ایک خاتون تشریف لائیں تو نبی اکرمؐ نے ان کے اکرام میں چادر بچھائی اور ان کو اس پر بٹھایا، صحابی رسول ابوالطفیلؓ کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو صحابہ نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہؐ کی رضاعی ماں حلیمہ سعدیہؓ ہیں۔ (ابوداؤد، مستدرک حاکم)
سیدہ حلیمہ سعدیہؓ کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی اور وہ جنت البقیع میں محو خواب ہیں۔
3۔ام فروہ
حافظ ابوالعباس جعفر بن محمد مستغفری نے آپؐ کی رضاعی ماؤں میں ام فروہ کا بھی ذکر کیا ہے، اور انہیں سے دیگر سیرت نگاروں نے اس کو نقل کیا ہے، صاحب سیرت حلبیہ لکھتے ہیں:
آپؐ کو ام فروہ نے دودھ پلایا۔
ان کی حالات زندگی کی تفصیلات کتابوں میں نہیں مل سکی۔
4۔ بنوسلیم کی تین خواتین
سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپؐ کو بنوسلیم کی تین کنواری لڑکیوں نے بھی دودھ پلایا، انہوں نے اپنا سینہ جونہی نبی اکرمؐ کے منہ سے لگایا دودھ جاری ہوگیا، جسے آپؐ نے پیا، اور اتفاق یہ کہ ان تینوں کا نام عاتکہ تھا۔ (السیرۃ الحلبیہ)
ان کے علاوہ بھی بعض خواتین کے نام رضاعی ماں کے طور پر ملتے ہیں، لیکن اکثر سیرت نگاروں نے انہیں رضاعی ماں تسلیم نہیں کیا ہے، اس لیے یہاں ان کو ذکر نہیں کیا گیا ہے۔